رسائی کے لنکس

logo-print

معاشی بحران سنگین، 'نئی حکومت کا کوئی ہنی مون پیریڈ نہیں ہوگا'


اسلام آباد میں واقع وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ (فائل فوٹو)

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومت کی ملک کی درست معاشی صورتِ حال کی "پردہ پوشی" نئی حکومت کے لیے مشکل حالات پیدا کر دے گی۔

پاکستان میں اقتصادی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا اور اولین چیلنج ملکی معیشت کو سنبھالا دینا ہو گا جو موجودہ اقتصادی صورتِ حال کے تناظر میں انتہائی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی کے تناظر میں مبصرین اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ یہ اقتصادی صورتِ حال بہتر ہونے کی بجائے مزید خرابی کی طرف جا سکتی ہے۔

خود نگراں وفاقی وزیرِ خزانہ شمشاد اختر بھی کہہ چکی ہیں کہ نگراں حکومت فوری نوعیت کے اقتصادی معاملات کو موجودہ قواعد و ضوابط میں رہتے ہوئے ہی حتی الامکان طور پر صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر سکتی ہے۔

ایسی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں کہ بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے اور بیرونی قرضوں کے تناظر میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے جس کے لیے نگراں حکومت رواں ماہ کے اواخر میں آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع کر سکتی ہے۔

لیکن منگل کو اپنی پہلی پریس کانفرنس میں نگراں وفاقی وزیرِ خزانہ شمشاد اختر نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ نگراں حکومت کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ آئی ایم ایف سے کسی نئے معاہدے پر بات کرے۔

عام انتخابات میں ڈیڑھ ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور اس اقتصادی صورتِ حال کے تناظر میں اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومت کی ملک کی درست معاشی صورتِ حال کی "پردہ پوشی" نئی حکومت کے لیے مشکل حالات پیدا کر دے گی۔

سابق مشیر اقتصادی امور ثاقب شیرانی کہتے ہیں کہ نگراں وفاقی وزیر نے جو حقائق بیان کیے ہیں وہ کوئی انکشاف نہیں اور ان کے بقول انھوں نے ملک کی اقتصادی صورتِ حال سے پردہ ہٹاتے ہوئے بتا دیا ہے کہ یہ کتنی سنگین ہے۔

بدھ کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ثاقب شیرانی کا کہنا تھا کہ شاید گزشتہ حکومت مدت پوری ہونے سے قبل یہ اعتراف نہیں کرنا چاہ رہی تھی کہ حالات کس نہج پر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بیرونی قرضوں کا حجم 90 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور آئندہ سال کے اواخر تک یہ 100 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

ڈالر کی مقابلے میں روپے کی قدر تیزی سے نیچے آئی ہے
ڈالر کی مقابلے میں روپے کی قدر تیزی سے نیچے آئی ہے

"یہ تو بہت چیلنجنگ ہے۔ اب اس کو کیسے پورا کرنا ہے کیونکہ اس کا کوئی مختصر مدتی حل تو ہے نہیں۔ مزید قرضے لے کر اگلی حکومت (کچھ کام) چلا سکتی ہے مگر اس میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی مستقل حکمتِ عملی نہیں ہو سکتی۔"

معیشت کے امور کے ماہر اور تجزیہ کار مزمل اسلم کے خیال میں آئندہ حکومت کو کوئی "ہنی مون پیریڈ" نہیں ملے گا اور وہ پہلے ہی دن سے دباؤ میں ہوگی۔

"بظاہر جو حکومت گئی ہے اس نے چیزیں خراب کر دی ہیں۔۔۔ خاص طور پر ٹیکس ریٹ کم کر دیے۔ آگے جا کر حکومت کو ٹیکس جمع کرنے میں بڑا فرق آسکتا ہے اور امید کی کوئی کرن آنے والے دنوں میں یہی ہے کہ جو سپریم کورٹ نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی اجازت دے دی ہے، وہاں سے پاکستانی حکومت کو پیسے مل گئے تو کچھ وقت کے لیے ریلیف مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ میں سمجھتا ہوں کہ نئی حکومت مائنس ٹائم سے شروع کرے گی۔ ہنی مون تو دور کی بات ہے۔"

دونوں ماہرین کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال سے نکلنے کے لیے دور رس اور مؤثر اقدام پر توجہ دینا اشد ضروری ہے۔

ثاقب شیرانی کے خیال میں برآمدات کو بڑھانے پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ نئی حکومت کے لیے درآمدات میں کمی اور روپے کی قدر کا تعین کرنا بہت اہم اور ضروری عوامل ہوں گے۔

مزمل اسلم بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے بقول جہاں پاکستان اپنی برآمدات بڑھانے میں ناکام رہا وہیں درآمدات کو بھی بہتر انداز میں منظم نہیں کیا گیا۔

"اب جو چیز یہاں پیدا ہوتی ہے وہ بھی درآمد کر رہے ہوتے ہیں۔ سنگترے جو دنیا میں پاکستان چوتھے یا پانچویں نمبر پر پیدا کرتا ہے، وہ بھی درآمد ہو رہا ہے۔ ہر پھل درآمد ہو کر آ رہا ہوتا ہے۔ کھانے کی چیزیں درآمد ہو رہی ہوتی ہیں۔"

مزمل اسلم کے خیال میں وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کو بھی محصولات کی مد میں ملنے والی رقم کو سیاسی فائدے کے بجائے سوچ سمجھ کر معاشی مفاد میں خرچ کرنا ہو گا بصورتِ دیگر اصلاحات اور معاشی اقدام کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG