رسائی کے لنکس

logo-print

بینائی سے محروم، لیکن انصاف کریں گے


یوسف سلیم (فائل)

پاکستان کے پہلے نابینا جج یوسف سلیم نے کہا ہے کہ ’’میں سول جج پر نہیں رکوں گا۔ میں سپریم کورٹ کا جج بننا چاہتا ہوں‘‘۔ اس وقت وہ لاہور میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

یوسف سلیم، جنہیں پہلے سول جج کے لیے ترک کردیا گیا تھا، دوبارہ غور و خوض کے بعد ان کی سول جج کے طور پر تعیناتی کی سفارش کی گئی ہے؛ جنہیں جوڈیشل اکیڈمی میں تربیت کے لیے کسی بھی وقت بلایا جا سکتا ہے۔ اس طرح، وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے نابینا جج ہوں گے۔

یوسف سلیم نے اپنی ابتدائی تعلیم لاہور کے ایک نجی اسکول، عزیز جہاں بیگم ٹرسٹ اسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد لاہور کی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے انٹر کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی آنرز میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے، یوسف سلیم نے کہا ہے کہ ’’جن والدین کے بچے نابینا یا کسی بھی معذوری کا شکار ہوں وہ انہیں چھپائیں مت، کیونکہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ یہ سب قدرت کے کھیل ہیں۔ والدین ہمت نہ ہاریں بلکہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں، کیونکہ تعلیم سب کے لیے ضروری ہے‘‘۔

اُنھوں نے بتایا کہ "میں نے اپنی ساری تعلیم ’بریل‘ میں حاصل کی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں نابیناؤں اور جسمانی یا دماغی معذوری کے حامل بچوں کی اعلٰی تعلیم کے لیے کوئی سافٹ وئیر نہیں ہے، جس کے باعث والدین کی اکثریت اپنے نابینا بچوں کو حافظ قرآن بنا دیتے ہیں۔"

یوسف سلیم نے سنہ 2017ء کے عدلیہ کے تحریری امتحان میں6500 امیدواروں میں اول پوزیشن حاصل کی۔ ان میں سے صرف 21 امیدواروں کو انٹرویوز کے لئے چنا گیا، جن میں یوسف سلیم بھی شامل تھے۔ لیکن نابینا ہونے کی وجہ سے انہیں انٹرویو کا اہل تصور نہیں کیا گیا۔

رواں سال، معاملہ میڈیا میں آنے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ نابینا ہونے کے باوجود کوئی بھی شخص جج کا منصب سنبھال سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اہلیت کے مطلوبہ معیار پر پورا اترتا ہو۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کی سلیکشن کمیٹی کو معاملہ دوبارہ دیکھنے کی ہدایت کی، جس پر یوسف سلیم سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں۔

یوسف سلیم نے بتایا کہ پاکستانی معاشرہ نابینا افراد یا کسی بھی جسمانی اور ذہنی معذوری میں مبتلا شخص کے لیے معاون نہیں ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ جب 2014ء سے 2017ء تک انہوں نے وکالت کی پریکٹس کی، تو انہیں بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا۔ حتٰی کہ عدالت میں کیس کی پیروی کرنے میں بھی کوئی مدد نہیں کرتا تھا۔

یوسف سلیم نے بتایا کہ "میں اپنے والدین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے میری خواہش کے مطابق اعلٰی تعلیم دلوائی۔ آج میں کمپیوٹر کا استعمال کر سکتا ہوں۔ میں خود گاڑی نہیں چلا سکتا۔ لیکن ’اوبر‘ اور ’کریم‘ کی ایپلیکشن استعمال کرکے اپنی مرضی سے کہیں بھی آ جا سکتا ہوں"۔

اُنھوں نے کہا کہ معاشرے میں نابینا یا کسی بھی معذوری میں مبتلا افراد کے لیے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

یوسف سلیم کے والد چارچرڈ اکاﺅنٹینٹ ہیں، جن کی دو بیٹیاں بھی نابینا ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی معذوری کو خداداد صلاحیتوں سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یوسف سلیم کی ایک بہن صائمہ سلیم 2007ء میں مقابلے کا امتحان پاس کرنے والی ملک کی پہلی نابینا سی ایس پی افسر بن کر فارن سروس گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ صائمہ سلیم جنیوا اور نیویارک میں پاکستان کے اقوام متحدہ مشن میں تعینات رہیں۔ اس وقت وہ وزیر اعظم ہاؤس میں ڈپٹی سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یوسف سلیم کی دوسری نابینا بہن عائشہ سلیم لیکچرار ہیں اور پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔

دنیا میں نابینا جج افراد کی مثالیں موجود ہیں۔ ہمسایہ ملک بھارت میں چکروردی نابینا جج جبکہ جسٹس زکریا محمد یعقوب جنوبی افریقا کی آئینی عدالت کے جج رہے ہیں۔ جان اینتھونی ویلز اور انگلینڈ جبکہ جان لیفرٹی برطانیہ میں نابینا جج تعینات رہ چکے ہیں۔ اسی طرح رچرڈ کانوے کیسی، رچرڈ برنسٹائن، رچرڈ بی ٹائٹلمین سپریم کورٹ میزوری امریکہ کے جج رہ چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG