رسائی کے لنکس

logo-print

سیلاب زدہ علاقوں میں غذائی قلت میں اضافے کا خدشہ


غیر سرکاری تنظیم ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹوڈائریکٹر عابد سلہری نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ سیلاب سے براہ راست متاثر ہونے والے اضلاع کے علاوہ بڑے شہروں میں رہنے والے بھی غذائی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں کیوں کہ سڑکیں متاثر ہونے کے بعد چھوٹے شہروں اور قصبوں سے مزید خوراک شہروں میں نہیں پہنچ رہی ہے ۔

عالمی ادارہ برائے خوراک ” ڈبلیو ایف پی“ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے غذائی قلت کے شکار افراد کی شرح میں کم از کم 10 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے جس سے ملک میں غذائی قلت کے شکار افراد کی شرح 60 فیصد تک ہوسکتی ہے ۔

ڈبلیوایف پی کے ایک اعلیٰ عہدیدار صاحب حق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیلاب سے 45 اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں اور ان میں صوبہ خیبر پختون خواہ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے وہ اضلاع بھی شامل ہیں جہاں کے رہائشی خوراک کی عدم فراہمی یا قوت خرید نہ ہونے کے باعث پہلے ہی غذائی قلت کا شکار ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ ایک شخص کویومیہ2350 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پاکستانی سیلاب سے قبل تقریباً نصف آبادی غذائی قلت کا شکار تھی ۔ اُنھوں نے بتایا کہ جب کسی شخص کو 1700 کیلوریز سے کم خوراک ملے تو ایسے فرد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غذائی قلت کا شکا رہے ۔

غیر سرکاری تنظیم ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹوڈائریکٹر عابد سلہری نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ سیلاب سے براہ راست متاثر ہونے والے اضلاع کے علاوہ بڑے شہروں میں رہنے والے بھی غذائی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں کیوں کہ سڑکیں متاثر ہونے سے چھوٹے شہروں اور قصبوں سے مزید خوراک شہروں میں نہیں پہنچ رہی ہے ۔

عابد سلہری کا کہنا ہے کہ سیلا ب زدہ علاقوں میں لوگوں کا ذریعہ معاش بھی بری طرح متاثر ہوا ہے جب کہ آئندہ بوائی کے موسم میں کھیتوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث فصلوں کی کاشت بھی متاثرہو سکتی ہے جس سے اُن کے بقو ل سیلا ب سے متاثرہ اضلاع میں غذائی قلت کا شکار افراد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان فیڈرل فلڈ کمیشن کے چیئرمین ضرار اسلم کا کہنا ہے کہ پنجاب میں زیادہ تر زرعی زمین محفوظ ہے اور وہاں اضافی گندم کی پیدوار متوقع ہے جب کہ اُن کا کہنا ہے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ زمین پر فصلوں کی کاشت میں کچھ وقت لگ سکتاہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ حکومت نے آبپاشی کے نظام کو بحال کرناشروع کردیا گیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG