رسائی کے لنکس

logo-print

قدرتی آفت سے پھیلی اتنی بڑی تباہی کبھی نہیں دیکھی: ہالبروک


خصوصی امریکی نمائندے برائے پاکستان اور افغانستان رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں سیلاب زدگان کے امدادی کیمپوں کا دورہ کیا ہے اور ایسی تباہی اور مشکلات انہوں نے کبھی کسی اور ملک میں قدرتی آفت کے بعد نہیں دیکھی۔ ہالبروک نے ان خیالات کا اظہارایک کانفرنس کال پریس بریفینگ میں کیا۔ انکے ساتھ یوایس ایڈ کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر راجیو شاہ نے بھی سینیر صحافیوں کے ساتھ بات کی۔

ایمبسیڈر ہالبروک نے کہا کہ ریسکیو اور ابتدائی بحالی کا کام تو جاری ہے لیکن تعمیر نو کے لیے ایک طویل عرصہ اور بے انتہا سرمایہ درکار ہوگا۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات کا آعادہ کیا کہ تعمیر نو کی اصل ذمہ داری پاکستان ہی کو اٹھانی ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان کے پاس اتنی استطاعت ہے کہ وہ تعمیر نو کا بوجھ اٹھاسکتا ہے، ہالبروک نے کہا کہ امریکہ اور عالمی برادری اس سلسلے میں پاکستان کی ضرورمدد کرے گی۔ تباہی کا نقشہ کھینچتے ہوئے ایمبیسیڈر ہالبروک نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں اکثر اسکولز، سڑکیں اور ڈیمز بہہ گئے ہیں جنہیں از سر نو تعمیر کرنا ہوگا۔ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا سب سے زیادہ خطرہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہے۔ ان خطرات پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے یو ایس ایڈ کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر راجیو شاہ نے کہا کہ ان کا ادارہ پاکستان کے ساتھ ٹہرے ہوئے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں مثلا ہیضہ سے نمٹنے کے لیے تعاون کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کی بنیادی غذائی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے انکے ادارے نے مزید 75 ملین ڈالر پاکستان کو دیے ہیں۔

کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کے لیے منظور کی گئی امداد پر سیلاب کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ اس قدرتی آفت کے بعد منطقی طور پر کیری لوگر بل کا کچھ حصہ ، تقریبا دس فی صد، سیلاب زدگان پر خرچ ہوگا۔ رچرڈ ہالبروک نے ایک بار پھر کہا کہ انکا ملک پاکستان کی مدد کسی جغرافیائی حکمت علمی کے تحت نہیں کررہا بلکہ محض انسانی ہمدردی اور امریکی اقدار کے تحت یہ سب کچھ کیا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG