رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں حالیہ سیلاب کے مختلف اسباب


پاکستان ان دنوں جس تباہی سے دوچار ہے وہ شاید دنیا کے بہت ہی کم ممالک نے دیکھی ہو۔ ایک تہائی ملک زیر آب ہے اور ہر طرف آہ و بکا پھیلی ہوئی ہے۔ سیلاب نے بستیاں کی بستیاں اجاڑ دیں، کھیت کھلیان، عمارتیں، گھربار، مال مویشی سب پانی میں بہہ گئے۔ ایسا تلخ تجربہ پاکستان کو پہلی مرتبہ ہوا ہے اور دعا ہے کہ دوبارہ کبھی نہ ہو ۔۔۔اس تاریخی تباہی کی موسمی، سائنسی اور معاشرتی وجوہات کیا تھیں آیئے آج اس کاجائزہ لیا جائے۔

سیلاب کی سائنسی و موسمی وجوہات
سیلاب آنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں مثلاًشدید یا غیر معمولی بارشیں ،کوہساروں پر جمعی برف کاتیزی سے پگھلنا، کلائی میٹ چینج یعنی موسمیاتی تبدیلی ،گلوبل وارمنگ یعنی بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے سبب گلیشئرز کا پگھلنا وغیرہ وغیر۔مخصوص جغرافیائی وجوہات کی وجہ سے بھی بسااوقات طوفانی بارشیں ہوتی ہیں اور اس کے نتیجے میں سیلاب آتے ہیں مثلاً پاکستان میں "خلیج بنگال" موسم کی تبدیلی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے یہاں اگر ہوا کا دباوٴ کم ہو تو بھی ملک میں شدید بارشیں ہوتی ہیں ۔ملک میں جولائی کا مہینہ مون سون کا ہوتا ہے ۔ اس ماہ بارشیں ہونا معمول ہے مگر اس بار بارشوں نے اس قدر شدت اختیار کی کہ جتنی بارش سال بھرمیں برستی ہے محض چند روز میں ہی برس گئی اور80 سال پرانا ریکارڈ ٹو ٹ گیا ۔
موسم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پرموجود کرہ وسطی جوکرہ اول اورکرہ دوم کے درمیان واقع ہوتاہے ، اس میں موجود غیرمعمولی ہوا کا دباوٴ پاکستان پربارشوں اور اس کے بعد سیلاب کاسبب بنا۔محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے جو سیلاب کی قبل از آمد اطلاع دے سکے۔
کرہ ارض کا بڑھتا ہوئی درجہ حرارت جسے گلوبل وارمنگ کہا جاتا ہے عالمی آب و ہوا میں تغیرات کا سبب بن رہا ہے ۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے کہیں غیر متوقع طور پر شدید بارشیں ہورہی ہے تو کہیں بدترین خشک سالی ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ پاکستان میں سیلاب کی صورتحال موسمی تغیر کی تازہ مثال ہے۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کا سبب لانینیا (La NiNa) ہے۔ ماحولیات میں لانینیا سے مراد ایسی صورتحال ہے جب بحرالکاہل کے سطحی درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے برعکس صورتحال کو ایل نینیو(El Nino )کہا جاتا ہے ۔ایل نینیو برصغیر کی جغرافیائی پٹی میں خشک سالی کا سبب بنتی ہے۔ ماحولیاتی سائنس د ان کہتے ہیں کہ رواں برس مختلف خطوں کے درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ گزشتہ برس کے ایل نینیوکا نتیجہ ہوسکتا ہے ۔ایل نینیو کی واقع پذیری کے بعد والا سال گرم ہوتا ہے جیسا کہ رواں برس ہورہا ہے۔

معاشرتی و سیاسی وجوہات
بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں سار ے سال پانی کی کمی رہتی ہے ۔ ملک کے چار صوبے ہیں اور ان چاروں صوبوں میں شدید اختلافات کی وجہ پانی کی کمی رہی ہے۔ اس صورتحال میں اس بار برسنے والی غیر معمولی بارشیں باران رحمت ثابت ہوسکتی تھیں مگر افسوس ایسا نہ ہوسکا اور سارا کا سارا پانی نہ صرف ضائع ہوگیا بلکہ اس پانی نے ہزاروں افراد کی جانیں لے لیں، لاکھوں افراد بے گھر اور کروڑوں بری طرح متاثر ہوئے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جتنا پانی آسمان سے برسا وہ سب کا سب ڈیمز، چھوٹے بڑے بندوں اور تالابوں میں جمع ہوکر کئی برسوں تک رحمت کا سبب بنتا مگر تلخ ترین حقیقتوں کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ سال بھر تک پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے ہر ملک میں ضرورت کے مطابق چھوٹے بڑے ڈیمز بنائے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں قومی یکجہتی کے فقدان ،سیاسی نفرتوں اور تعصبات کے باعث ڈیموں کی تعمیر ایک عرصے سے سیاسی ایشو بنی ہوئی ہے۔ملک میں صرف دو چا ر ہی بڑے ڈیم ہیں منگلا ، تربیلااور وارسک ڈیم جبکہ کالا باغ، کرم تنگی، بھاشا، منڈا اوراکوڑی ڈیمز کسی نہ کسی وجہ سے کئی عشروں سے متنازع بنے ہوئے ہیں اور اس کے سبب ان کی تعمیر آج تک مکمل نہیں ہوسکی۔
آج اگر یہ ڈیم ہوتے تو نہ پانی ضائع ہوتا نہ سیلاب آتا کیوں کہ بھاشا دیم میں سات اعشاریہ تین ملین ایکٹر فٹ ، کرم تنگی میں صفر اعشاریہ نو ایک چار ملین ایکٹر فٹ ، منڈا ڈیم میں ایک اعشاریہ تین صفر اور اکوڑی میں سات ملین ایکٹر فٹ تک پانی ذخیرہ ہوسکتا ہے ۔لیکن بدقسمتی سے تمام ڈیمز کسی نہ کسی تنازعے اور اعتراض کے سبب روکے ہوئے ہیں۔ اکوڑی ڈیم پرصوبہ سندھ او رخبیر پختونخواہ کو اعتراض ہے ۔ سندھ کا موقف ہے کہ اس کی تعمیر سے سندھ کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی۔
بھاشا ڈیم کی مجوزہ جگہ کو بھارت نے متنازع ثابت کردیا جس سے ڈیم کی تعمیر کے لئے دیا جانے والا قرضہ روک لیا گیا۔ کرم تنگی ڈیم پر خبیر پختونخواہ اور واپڈا کے درمیان ڈیم کی اونچائی کے حوالے سے اختلافات ہیں ،منڈا ڈیم واپڈا اور اس کے کنٹریکٹر کے درمیان جنگ کی وجہ سے ادھورا ہے۔جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دریائے سوات پر منڈ اڈیم بن جاتا تو آج نوشہرہ زیر آب نہ آتا۔
پاکستان میں ڈیم اور آبی ذخیرہ گاہیں وافر تعداد میں نہ ہونے کے باعث ایک محتاط اندازے کے مطابق کم سے کم پچیس ملین ایکٹر فٹ پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ یہ اندازہ پانی کی انتہائی کم مقدار کو سامنے رکھ کر لگایا گیا ہے جبکہ حالیہ تیز بارشوں اور سیلاب سے ضائع ہونے والے اس پانی کی مقدار بہت زیادہ ہے۔یعنی اگر ڈیمز ہوتے تو یہ سارا کا سارا پانی ذخیرہ ہوجاتا ۔جو پانی ضائع ہوگیا اس کی مقدار تربیلہ اور منگلا میں سالانہ ذخیرہ کئے جانے والے پانی کے تناسب سے کئی برس تک کے برابر ہوسکتی ہے۔

جغرافیائی وجوہات
یہ حقیقت ہے کہ خراب موسم کے ساتھ ساتھ بھارت سے خراب تعلقات بھی پاکستان کے لئے قدرتی آفات کا ایک اہم سبب ہے۔دونوں ممالک کے درمیان پانی اور دریاوٴں کی تقسیم کے حوالے سے سندھ طاس معاہدہ موجود ہے مگر اچھے تعلقات نہ ہونے کے سبب بھارت اس معاہدے کی شرائط کو دانستہ نظر انداز کرجاتا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی رو سے وہ اس بات کا پابند ہے کہ پاکستان کے حصے کا پانی نہیں روکے گا اور مون سون کے موسم میں اضافی پانی دریاوٴں میں نہیں چھوڑے گا مگرپاکستای حکام کے مطابق عملاً اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ موجوہ سیلاب کی تباہ کاری میں بھی اضافہ اس وقت ہوا جب بھارت نے دریائے چناب میں دو لاکھ دس ہزار کیوسک سے زائد پانی چھوڑ دیا ۔ لہذا بھارت کو پابند کرنا ہوگا کہ وہ اکھنور کے مقام پر پانی آتے ہی پاکستان کو اطلاع دے۔ اکھنور سے مرالہ تک پانی چھ گھنٹے میں پہنچتا ہے، لہذا اگر پہلے سے اطلاع دے دی جائے تو پاکستان وقت پر سیلابی صورتحال پر قابو پاسکتا ہے ۔

XS
SM
MD
LG