رسائی کے لنکس

logo-print

سیلاب: سندھ میں نقصان کا تخمینہ 550 ارب روپے


وزیراعلی سندھ کے مشیراقتصادی امور ڈاکٹرقیصر بنگالی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے حکومت سندھ نے سیلاب سے مثاثرہ اضلاع میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا لیا ہے جوکہ 550 ارب روپے بنتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھ اضلاع کشمور، جیکب آباد، لاڑکانہ، شکارپور اور شہداد کوٹ بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اب سیلاب کا رخ دادو کی جانب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں کل 300 سکول، 100 کے نزدیک مراکز صحت اور 6 بڑے ہسپتال تباہ ہوئے ہیں جبکہ سڑکوں سمیت انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسی طرح شہری اور دیہی علاقوں میں کل 14 لاکھ گھر سیلاب سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین کی بحالی کے لیے 2005 میں زلزلے کے بعد گھروں کی تعمیر کے لیے موجود ماڈلز پرغور ہورہا ہے۔ حکومت گھربنا کر دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے البتہ شہریوں کو نقد رقوم دی جائینگی تاکہ وہ خود اپنے رہائشی یونٹ تعمیر کر سکیں۔ اور اس مقصد کے لیے دیہی علاقوں میں امدادی رقم ایک لاکھ روپے جبکہ شہری آبادی میں ڈھائی لاکھ روپے ہوگی۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی نے بتایاکہ بحالی کے اس عمل کے لیے سندھ حکومت اپنے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کرے گی، وفاقی حکومت سے مدد لی جائے گی اور پھر بین الاقوامی امداد سے استفادہ کیا جائے گا۔

دوسری طرف پاکستان میں اقوام متحدہ کی انفارمیشن آفیسر عشرت رضوی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ادارے نے 60 لاکھ افراد کے لیے ان کی تین ماہ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ابتدائی امدار اور ریلیف کی مد میں تین ماہ کا سامان کیا تھا لیکن اب چونکہ متاثرین کی تعداد پہلے اندازے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے اس لیے ادارہ ستمبر کے تیسرےہفتے میں پاکستان کے لیے امداد کے منصوبے پرنظرثانی کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے منصوبے میں متاثرین کی غذائی ضروریات ، علاج معالجے اور چھت جیسی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی عہدیدار نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ادویات اور غذا کی قلت بیماریوں کی صورت میں کسی بڑے انسانی المیے کا سبب بن سکتی ہے۔

متاثرین کی فوری امداد کے بعد ان کی بحالی کے بلیو پرنٹس پر غورکیا جا رہا ہے اور 2005 کے زلزلے سے متاثرہ افراد کو گھروں کی تعمیر کے لیے نقد رقم دینے کا ماڈل یہاں بھی اپنایا جاسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG