رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: بارشیں سیلاب، 200سے زائد ہلاکتیں، کئی علاقے زیر آب


خانکی اور قادرآباد میں اونچے درجے کا سیلاب, وزیر اعظم نے سیالکوٹ میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ ہیڈمرالہ سے نو لاکھ 10 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ گزرنے سے سیالکوٹ، نارووال، سمبڑیال علاقے بری طرح متاثر

حالیہ بارشوں کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہٴپنجاب میں ہوئی ہیں، جہاں صوبائی فلڈ رلیف کمشنر، ندیم اشرف نے 128ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے، جب کہ زخمیوں کی تعداد 300 کے قریب بتائی جاتی ہے۔

لاہور میں ’ریسکیو 122‘ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ صرف صوبائی دارالحکومت میں شدید بارشوں کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوچکے ہیں۔ صوبائی حکام کہتے ہیں کہ پنجاب کے 15 اضلاع میں 556 دیہات متاثرہ ہوئے ہیں۔

یہاں آبادی کا اندازہ سات سے آٹھ لاکھ نفوس ہے۔ اِن علاقوں میں 327میڈیکل رلیف کیمپ کام کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے متاثر ہونے والے 15 اضلاع میں ہر ضلعے کو فوری طور پر 10 کروڑ کی رقم امدادی کاموں کے لیے جاری کردی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ہیڈمرالہ سے نو لاکھ 10 ہزار کیوسک پانی کا ریلہ گزرنے سے سیالکوٹ، نارووال، سمبڑیال علاقے بری طرح متاثر ہوئے۔

وزیر اعظم نواش شریف نے اتوار کے روز اُن متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا اور بعدازاں سیالکوٹ شہر کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

اِس موقعے پر میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ متاثرین کی مؤثر دیکھ بھال کی جائے۔ اس سلسلے میں، بقول اُن کے، حکومت اور پاک فوج پوری محنت کررہی ہے۔

انٹر سروسز پبلک رلیشنز کی ایک پریس ریلیز کے مطابق، فوج متاثرہ علاقوں میں 300 کشتیوں اور پانچ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے رلیف آپریشن کر رہی ہے۔ اب تک، 3000سے زائد افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا چکا ہے۔

سیالکوٹ، نارووال، سنبڑیال، گجرات، منڈی بہاٴالدین، پھالیہ، چنیوٹ، ملتان، حافظ آباد، جھنگ، فیصل آباد اور وزیر آباد کے علاقوں مین امدادی کام جاری ہے۔

لاہور میں قائم سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والے مرکز کا کہنا ہے کہ خانکی اور قادرآباد پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ ساڑھے نو لاکھ سیوسک ہے۔

اس سے قبل موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہٴپنجاب کے مشرقی علاقوں میں شدید بارشوں، دریاؤں اور نالوں میں طغیانی کے باعث سینکڑوں دیہات زیر آب آگئے ہیں جہاں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری ہے۔

حکام کے مطابق بارشوں کے باعث ہونے والے حادثات میں مرنے والوں کی تعداد 181 ہو گئی ہے جب کہ تقریباً تین سو افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے اتوار کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں پنجاب میں ہوئیں جہاں 108 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 62 اور شمالی علاقے گلگت بلتستان میں 11 ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جارہا ہے اور اب تک کے جائزوں کے مطابق ڈیڑھ ہزار سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جب کہ تین ہزار سے زائد کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کی متعدد تحصیلوں میں سیلابی پانی سے لاکھوں ایکڑ اراضی پر کھڑی دھان کی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔

حافظ آباد میں تقریباً دو سو دیہاتوں میں پانی داخل ہو چکا ہے اور یہاں سے تقریباً دو لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا بتایا جارہا ہے۔ لگ بھگ تین ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔ جلاپوربھٹیاں میں 90 سے زائد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔

دریائے چناب میں سیلاب کا شدید خطرہ بدستور موجود ہے اور اس کے کنارے آباد علاقوں سے لوگوں کو منتقل کرنے میں امدادی اداروں کی معاونت پاکستانی فوج بھی کر رہی ہے۔ امدادی سرگرمیوں میں ہیلی کاپٹر اور کشتیاں استعمال کی جارہی ہیں۔

احمد کمال نے بتایا کہ اس وقت دریائے چناب کے علاوہ راوی میں پانی کی سطح انتہائی بلند ہے۔ ان کے بقول قادرآباد سے گزرنے والا سیلابی ریلا آئندہ 36 سے 48 گھنٹوں میں تریمو سے گزرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تریمو کی گنجائش چھ لاکھ 45 ہزار کیوسک ہے جب کہ آنے والے دو ریلوں میں سے ایک نو لاکھ 20 ہزار اور ایک آٹھ لاکھ پچاس ہزار کیوسک کا ہے۔

عہدیدار کے بقول تریمو کی آبی گزرگاہ کے پشتوں کو بچانے کے لیے ہوسکتا ہے مختلف مقامات پر شگاف بھی ڈالنا پڑیں۔

ادھر شمالی علاقے استور میں مٹی کا تودہ گرنے سے اس علاقے کا ملک کے دوسرے حصوں سے زمینی راستہ منقطع ہو چکا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سیالکوٹ پہنچے ہیں جب کہ انھوں نے سمبڑیال اور نارووال کے علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔

XS
SM
MD
LG