رسائی کے لنکس

logo-print

سیلاب زدگان میں پانچ لاکھ حاملہ خواتین: اقوام متحدہ


اقوام متحدہ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیاہے کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والے دو کروڑ افراد میں اندازاً پانچ لاکھ حاملہ خواتین بھی شامل ہیں جنہیں بنیادی طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے ۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود آبادی ”یو این ایف پی اے“ کے عہدیدار نصیر نظامانی نے بدھ کو وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ بچوں کی خیموں اور گاڑیوں میں پیدائش کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جب کہ سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک کی قلت کے باعث ماؤں کی غذائی ضروریات پوری نہیں ہو رہی ہیں جس سے نوزائیدہ بچوں کی صحت کو براہ راست خطرات لاحق ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک اور بڑا مسئلہ نومولود بچوں کی نگہداشت ہے چونکہ سیلاب میں اپنا سب کچھ کھو دینے کے بعد متاثرین کے پاس ان بچوں کو پہنانے کے لیے موضوع کپڑے نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ شیر خوار بچوں کو ٹھنڈلگنے کا زیادہ احتمال ہوتا ہے اور یہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حاملہ خواتین کو طبی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے البتہ ان کا ادارہ حکومت پاکستان کے تعاون سے اس تشویش ناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی استعداد کے مطابق تمام تر اقدامات کررہا ہے۔

عالمی ادارے کے جائزے کے مطابق ملک بھر میں کم از کم دو سو طبی مراکز اور ہسپتال سیلاب کی زد میں آئے ہیں جن کی جلد از جلد بحالی ضروری ہے۔

ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے سرکاری حکام کے مطابق اب تک کم از کم 1,475افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم عالمی تنظیم نے متنبہ کیا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں آلودہ پانی کے استعمال، حفظان صحت کی ناقص صورتحال اور پناہ گاہوں میں ہجوم کی وجہ سے سیلاب زدگان کے وبائی امراض کا شکار ہونے کا امکان ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اب تک ملک کے مختلف حصوں میں کم از کم چار لاکھ افراد کے جلدی امراض، دست و اسہال اور سانس کی نالی میں انفیکشن کی تشخیص ہو چکی ہے ، جب کہ سیلاب زدہ علاقوں میں 35 لاکھ بچوں کے مہلک امراض میں مبتلا ہونے کے خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG