رسائی کے لنکس

logo-print

سیلاب کے امدادی کاموں میں ناقص کارکردگی کا حکومت کو نقصان: امریکی اخبار


موقر امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے پاکستان میں سیلاب سے پھیلی تاریخی تباہی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان ان دنوں اپنی تاریخ کے بدترین سیلابوں کانشانہ بنا ہوا ہے اورمتاثرین کی مدد کے لیے حکومت پاکستان کی سست روی نے صدر زرداری کی ساکھ کو مزید کمزور کردیا ہے۔ اس ضمن میں امریکی حکام کے حوالے سے اخبار کاکہنا ہے کہ اس سست روی سے نہ صرف صدر زرداری کو ایک سیاسی راہنما کے طورپر دھچکا لگا ہے بلکہ ایک ایسے ملک میں استحکام لانے کی امریکی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس میں زیادہ عرصے تک فوج برسراقتدار رہی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حالات میں جبکہ سیلاب زدگان کے لیےصدر زرداری کا ابتدائی رد عمل سست تھا، اعلیٰ امریکی حکام نے غیر اعلانیہ طور پر ان پر اپنا یورپ کا دورہ مختصر کرکے واپس اپنے وطن لوٹنے کا دباوٴ ڈالا تھا ۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ سیلاب میں گھیرے ملک کو ہر ممکن امداد فراہم کی جاسکے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ دباوٴ کے نتیجے میں صدر زرداری اسلام آباد واپس آگئے۔ تاہم امریکی حکام اس بات سے بے خبر رہے کہ ایسا امریکی دباوٴ کے سبب ہوایا صدرزرداری نے یورپ میں اپنے خلاف ہونےوالے مظاہروں کے بعدواپسی کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیرون ملک مقیم ایک پاکستانی نے ان کی طرف جوتا بھی اچھالا تھا۔

پاکستان میں سیلاب سے اب تک تقریباً 1500 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ پاکستان کو خاطرخواہ بیرونی امداد نہیں مل رہی ، عالمی بینک نے 90 کروڑ ڈالرکے قرضے درمیان میں ہی روک دیئے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں عوام نے امداد کی کمی کے خلاف احتجاج شروع کردیا ۔

اخبار وال سٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ جن امریکی حکام جن کا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم کے بعدسے اب تک عوام کی اتنے بڑے پیمانے پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں دیکھی تھی، ان کا خیال ہے کہ سیلاب سول حکومت کو اپنی ساکھ بہتربنانے کے لئے ایک اچھا موقع فراہم کرسکتا ہے۔ لیکن افسوس صدر زردری کی وطن سے غیر حاضری اورسول حکومت کی غیر مؤثر اور ڈھیلی ڈھالی حکمت عملی نے اس کے خلاف تنقید کا مزید موقع فراہم کیا۔

اخبار لکھتا ہے کہ سیلاب سے بچاوٴکے کاموں میں پاکستانی فوج پیش پیش رہی ہے۔ فوج کے 60 ہزار جوانوں نے خود کو امدادی کاموں کے لئے وقف کررکھا ہے۔ ان کاموں اور ان کی سخت کوششوں کے باعث پاکستانی عوام کی اکثریت کو یہ تاثر ملا ہے کہ اصل طاقت کا سر چشمہ فوج کے پاس ہے۔

اخبار کے مطابق پاکستان کو آزادی حاصل کئے 63 سال ہوچکے ہیں لیکن اس ملک پر نصف سے زیادہ مدت تک فوج برسر اقتدار رہی ۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ 2008ء تک پاکستان پر فوجی حکومت مسلط رہی تو غلط نہ ہوگا۔

فوج نے پاکستانی طالبان سے حال ہی میں بہت سے علاقے خالی کرائے ہیں، مثلاً وادی سوات۔ سول حکومت کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں اس کا کنٹرول بہت کمزور پڑ گیا تھا۔

اخبار کہتا ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی پاکستانی فوج کے طاقتور سربراہ ہیں لیکن وہ اقتدار حاصل کرنے کے متمنی نہیں۔لیکن اس کے باوجود وہ واشنگٹن میں اوباما انتظامیہ سے مذاکرات کرنے کے لئے آنے والے وزرا کے ایک وفد کی سربراہی کرتے نظر آئے۔

امریکا اس بات میں یقین رکھتا ہے کہ ایک طاقتور سول حکومت کے زیر سایہ ہی پاکستان مزید مستحکم ہوسکتا ہے۔ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان سے ملنے والی افغان سرحد پر پاکستانی فوج ہی طالبان کے خلاف کارروائی کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھے۔

اخبار کے مطابق اوباما انتظامیہ نے پاکستان کی سول حکومت کو آگے لانے کےلئے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ ملک پر اسلام پسند وں کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لئے ساڑھے سات بلین ڈالرز کی امداد بھی دی گئی ۔ تاہم مسٹر زرداری کی شخصیت اب ابھر رہی ہے۔ پاکستان کے 1973ء کے آئین کے مطابق تمام اختیارات وزیر اعظم کو منتقل ہوچکے ہیں۔ اس کے باوجود زرداری پارلیمنٹ کی سب سے بڑی پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے نمایاں ہیں اور اثرو رسوخ رکھنے والی شخصیت کے مالک ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ سیلاب نے زرداری کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ ایک امریکی ریسرچ سینٹر کی جانب سے کرائے گئےسروے کے مطابق ہر پانچ پاکستانیوں میں سے صرف ایک پاکستانی ان کے بارے میں مثبت رائے رکھتا ہے۔ سیلاب کے دوران ملک سے دس دنوں کی غیر حاضری نے زردری مخالف مظاہروں میں جلی پر تیل کا کام کیا۔ اوباما انتظامیہ کے لئے بھی یہ مظاہرے پریشانی کا باعث تھے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اسلام پسند خیراتی تنظیمیں ، جن میں سے کچھ کا تعلق دہشت گرد تنظیموں سے ہے، اس دوران سیلاب زدہ علاقوں میں فعال ہوچکی ہیں۔ ان تنظیموں نے نہ صرف سیلاب زدگان میں امدادتقسیم کی بلکہ پاکستانی حکومت کی اچھی ساکھ سے مقابلہ بھی کیا جوامریکی حکام کے لئے فکرمندی کا باعث ہے۔

مسٹرزرداری اپنے غیر ملکی سفر کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے اس دورے سے عالمی توجہ سیلاب سے پیدا ہونے والے بحران کی طرف مبذول ہوئی۔ مسٹر زرداری کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر کا یورپی ممالک کا دورہ برطانیہ اورفرانس کے ساتھ دور رس تعلقات کے مفاد میں تھا ، چنانچہ اگر زرداری یہ دورہ نہ کرتے تو اس سے حاصل ہونے والی شہرت محض مختصر مدت کے لیے ہوتی۔

امریکی حکام پاکستانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں چاہتے۔ خطے میں موجود ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ سیلاب بحران ہے ، پاکستان کو امریکی حمایت کی ضرورت ہے ۔

پاکستان کو امریکہ سے درکار چیزوں کی ابتدائی فہرست پیش کرنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ امریکی وزارت دفاع کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ تاخیر کی وجہ سمجھ سے بالاتر نہیں۔ کیوں کہ پاکستانی فوج ہوائی تخمینے نہیں لگا سکتی۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن جمعرات کو پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں پر بلائے جانے والے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے جمعرات کو نیویارک میں موجود ہوں گی۔

واشنگٹن کی جانب سے کسی ملک کو اب تک دی جانے والی ساڑھے سات کروڑ ڈالر کی امداد سب سے بڑی امداد ہے ۔ امریکہ تفصیلی تخمینوں کی تیاری کے سلسلے میں پاکستان کی مدد کے لیے امریکی فوجی انجنیئروں کی ٹیمیں بھی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی حکام کی تعیناتی اسلام آباد کے لئے پیچیدگی کا باعث ہوگی لہذا یہ کوشش کی جارہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ پس منظر میں رہ کر کام کیا جائے۔ وزارت دفاع کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہم جو بھی کررہے ہیں وہ پاکستانی حکومت کی باقاعدہ دعوت پر کررہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG