رسائی کے لنکس

خواجہ آصف کی ایران کے صدر اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں


گزشتہ ہفتے خواجہ آصف نے چین کا دورہ کیا تھا اور آنے والے دنوں میں وہ روس اور ترکی کا دورہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے پیر کو تہران میں ایران کے صدر حسن روحانی اور اپنے ہم منصب جواد ظریف سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

ان کا یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ ماہ افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے تناظر میں خطے کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے سفارتی رابطوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

دورے میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال بشمول افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں کے امور زیر بحث آئے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن ہمسائیگی کی پالیسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے علاوہ خطے میں سلامتی اور ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔

بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے تجارت، سرمایہ کاری، روابط اور سرحدی امور کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

دونوں عہدیداروں نے اتفاق کیا کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اور دیرپا امن کے لیے سیاسی مذاکرات ہی ضروری ہیں۔ ان کے بقول علاقائی ممالک کے افغانستان میں کلیدی مفادات ہیں اور انھیں امن کے لیے زیادہ موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

گزشتہ ہفتے خواجہ آصف نے چین کا دورہ کیا تھا اور آنے والے دنوں میں وہ روس اور ترکی کا دورہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

خواجہ آصف بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں
خواجہ آصف بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں

نئی امریکی پالیسی میں جہاں افغانستان میں مزید امریکی فوجی تعینات کرنے کا ذکر کیا گیا ہے وہیں پاکستان سے اس مطالبے کو دہرایا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہوں کے خلاف سنجیدگی سے کارروائی کرے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے اپنی سرزمین پر تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کیں اور اب یہاں کسی بھی نیٹ ورک کی منظم موجودگی نہیں ہے جب کہ افغانستان کے تنازع کا پرامن حل سیاسی بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ایران بھی ان ملکوں میں شامل ہے جو صدر ٹرمپ کی نئی پالیسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

چین یہ کہہ چکا ہے کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کو سراہنا ہوگا۔

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نئی امریکی پالیسی سے شاکی دکھائی دیتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس میں بظاہر زمینی حقائق کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور نہ ہی خطے اور عالمی امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کا ادراک کیا گیا۔

نئی امریکی پالیسی پر پاکستان کے سیاسی و سماجی حلقوں میں بھی خاصی برہمی دیکھنے میں آ چکی ہے۔

گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں نئی پالیسی کے خدوخال بیان کیے تھے۔
گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں نئی پالیسی کے خدوخال بیان کیے تھے۔

سینئر تجزیہ کار اور پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے سربراہ ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی کہتے ہیں کہ پاکستانی وزیر خارجہ کا دورہ ایران ان کے دورہ چین کی طرح پاکستان کے لیے سفارتی سطح پر ایک اچھی پیش رفت ثابت ہو گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کو خطے میں امریکی مخالف بلاک ابھرتا ہو نظر آ رہا ہے جس میں روس اور چین کے ساتھ ساتھ اب پاکستان کا رویہ بھی ایسا ہی دکھائی دیتا ہے لہذا امریکی انتظامیہ کو اس بدلتی ہوئی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں خصوصاً اس خطے کے بارے میں حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

"ہم جو اس وقت دیکھ رہے ہیں کہ چاہے روس ہے، چین ہے، ایران ہے وہ پاکستان کا انحصار امریکہ پر کم کرنا چاہتے ہیں کہ جتنا پاکستان کا سیاسی و سماجی اور اقتصادی طور پر امریکہ پر انحصار کم ہو اس سے امریکہ کی بجائے ان کے مقاصد شاید بہتر طور پر پورے ہو سکیں گے۔ اس لیے واشنگٹن پر لازم ہے کہ وہ افغان پالیسی کا ازسر نو جائزہ لے اور دیکھے کہ اس سے کتنی پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو محسوس کرنا چاہیے کہ پاکستان جیسا روایتی دوست اس سے کیوں ہٹ رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG