رسائی کے لنکس

logo-print

’امن کا قیام خواہش بھی ہے اور ترجیح بھی‘


فائل

پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ’’ہم نئی بھارتی حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں‘‘، اور یہ کہ ’’دونوں ہمسایہ ممالک کو خطے میں خوش حالی، امن کے قیام اور تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔‘‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’خطے میں امن کا قیام خواہش بھی ہے اور ترجیح بھی۔ ہماری حکومت کی خارجہ پالیسی اور 9 ماہ میں کیے گئے اقدامات ہمارے مثبت عزائم ظاہر کرتے ہیں‘‘۔

انہوں نے یہ بات گزشتہ روز ملتان میں این اے 157 کی یونین کونسل ٹاٹے پور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’’افغانستان خطے کا ایک اہم ملک ہے‘‘ اور یہ کہ ’’ملحقہ تمام ہمسایہ ممالک کا امن افغانستان ہی سے وابستہ ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہماری کوشش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو تاکہ پائیدار علاقائی استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔ ہم نے ہمیشہ افغان قیادت میں، افغانوں کے اپنے اور قبول کردہ حل پر اصرار کیا ہے۔ آگے بڑھنے کا یہی واحد راستہ ہے‘‘۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’’یہ امر باعث اطمینان ہے کہ امن اور مفاہمت کے فروغ کے لئے بات چیت کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آگے بڑھتے ہوئے افغانستان کے ہمسایوں اور دیگر فریقین کو شامل رکھا جائے گا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس عمل میں سہولت کاری فراہم کرتا رہے گا، اور اس امید کا اظہار کیا کہ دوسرے ممالک بھی اس مشترکہ ذمہ داری میں اس کی حمایت کریں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ہے۔ ہمارے نزدیک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرکے دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا حل انتہائی ناگزیر ہے۔ یاد رکھنا ہوگا کہ اگر ہم امن چاہتے ہیں تو پھر انصاف سے کام لینا ہوگا‘‘۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’بد قسمتی سے، ماضی کی حکومتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں کیا، جس کی وجہ سے دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جا سکا، اور یہ کہ موجودہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں سنجیدہ ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’جنوبی پنجاب صوبے کا قیام نہ صرف ہماری ترجیح بلکہ یہاں کے عوام کی خواہش بھی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہماری حکومت اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ ہم نے قومی اسمبلی میں بل جمع کروایا ہے۔ اگلے مرحلے میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں گے اور سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں گے‘‘۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’’یہ بات واضح ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام صوبے کی مخالفت کرنے والے کو جنوبی پنجاب میں قدم نہیں رکھنے دیں گے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ جلد ہی جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ فعال ہو جائے گا، جبکہ آئندہ مالی سال کے پیش ہونے والے بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لیے علیحدہ ترقیاتی بجٹ رکھا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG