رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی آرمی چیف کے بیان سے ہمارا نظریہ تبدیل نہیں ہو سکتا: شاہ محمود


فائل

بھارتی آرمی چیف، بپن راوت کے پاکستان کو سیکولر ہونے کے مشورے پر، پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا؛ اور ''اُن کے بیان سے ہمارا نظریہ تبدیل نہیں ہو سکتا''۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی میڈیا کے کرتار پور راہداری کے بارے مبینہ ''پروپیگنڈہ'' کو مسترد کر دیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''کرتار پور راہداری سے پاکستان نے خیرسگالی کا پیغام دیا۔ خطے میں امن ہوگا تو معاشی خوشحالی اور روزگار میں اضافہ ہوگا''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہماری خواہش ہے کہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر امن ہو اور پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات ہوں''۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ''سکھ برادری کی خواہش اور مطالبہ تھا کہ انہیں کرتار پور جانے دیا جائے''۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ''اس فیصلے کو پوری دنیا میں سراہا گیا ہے۔ اس قدم سے پاکستان نے خیرسگالی کا پیغام دیا اور بھارتی حکومت کے بھی شکرگزار ہیں۔ انھوں نے ہماری اس کوشش پر رضامندی کا اظہار کیا۔ اور بھارتی حکومت نے اپنے دو وزیروں کو تقریب میں شرکت کے لیے بھیجا۔ اچھی شروعات ہوئی ہے اور اس کو مثبت انداز میں سمجھنا چاہیے''۔

دوسری جانب، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ ''بھارتی میڈیا میں کرتار پور راہداری اور پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ پر مایوسی ہوئی۔''

سماجی رابطے کی سائیٹ، ٹوئیٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے یہ اقدام خالصتاً سکھ کمیونٹی کے مطالبے پر اٹھایا۔ اس کا مقصد بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات کے لیے سکھ کمیونٹی کی آسانی ہے۔ اس حوالے سے بیان کیا گیا کوئی بھی مقصد خود ساختہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ''ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت ویزا سمیت دیگر ضروریات پر پاکستان سے بات چیت آگے بڑھائے گا۔ پاکستان مخالف عناصر اپنے پروپیگنڈہ میں کامیاب نہیں ہونگے''۔

پاکستان کی طرف سے کرتار پور راہداری کے سنگ بنیاد کی تقریب میں بھارتی میڈیا پر مختلف خبریں نشر کی جاتی رہیں، جن میں سے خالصتان تحریک کے گوپال چاولہ کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ مصافحے پر کرتار پور راہداری کو خالصتان تحریک سے جوڑا گیا۔

پاکستان نے کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کیا جس کے بعد بھارتی کابینہ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کی جس کے بعد سکھ کمیونٹی نے بہت پرجوش انداز میں اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ آئندہ سال نومبر میں بابا گرونانک کا 550 واں جنم دن منایا جائے گا جس کے لیے ہزاروں افراد کی آمد متوقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG