رسائی کے لنکس

logo-print

تین گیس پائپ لائنیں تباہ، پنجاب میں صنعتوں کو سپلائی بند


مقامی پولیس کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی اور دھماکے کے نتیجے میں پائپ لائنوں میں آگ لگی جس پر کئی گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد پیر کی صبح قابو پا لیا گیا۔

پاکستان کے ضلع رحیم یار خان کے قریب قدرتی گیس کی تین مرکزی پائپ لائنوں کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا جس سے صوبہ پنجاب میں گیس کی سپلائی منقطع ہو گئی ہے۔

حکام کے مطابق ان گیس پائپ لائنوں کو اتوار کی شب صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع رحیم یار خان سے تیس کلو میٹر کے فاصلے پر سکندر آباد نامی گاؤں کے قریب تباہ کیا گیا۔

دھماکے کی نوعیت کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا گیا تاہم بلوچ علیحدگی پسندوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی۔ جس مقام پر دھماکا ہوا وہاں کئی فٹ چوڑا اور گہرا گڑھا پڑ گیا۔

مقامی پولیس کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور دھماکے کے بعد پائپ لائنوں میں آگ لگی جس پر کئی گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد پیر کی صبح قابو پا لیا گیا۔

سوئی نادرن گیس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر عارف حمید نے وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ تین گیس پائپ لائنوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔

’’ سندھ اور بلوچستان سے پنجاب کو گیس سپلائی کرنے والی چار میں سے تین (18 انچ، 30 انچ اور 36 انچ) کی تین لائنوں کو نقصان پہنچا۔ اب صرف 24 انچ کی ایک لائن باقی بچی ہے۔‘‘

عارف حمید نے بتایا کہ دستیاب قدرتی گیس اب صرف گھریلو صارفین کو دی جا رہی ہے۔

’’پورا پنجاب متاثر ہوا ہے۔ ہم نے صنعتی یونٹوں کو گیس کی سپلائی مکمل طور پر بند کر دی ہے اور گھریلو صارفین کے لیے گیس کی سپلائی کا پریشر نہایت کم ہو گیا ہے۔ اسی لیے ہم نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ گیس ھیڑ، گیزر بند رکھیں اور چولھا بھی کم سے کم وقت کے لیے چلائیں۔‘‘

سوئی نادرن گیس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر عارف حمید کا کہنا تھا کہ تباہ ہونے والی پائپ لائنوں کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے جس میں 48 گھنٹے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

’’سب سے پہلے 36 انچ قطر پائپ لائن کو بحال کرنے پر کام کر رہے ہیں کیوں کہ یہ متاثر ہونے والی سب سے بڑی پائپ لائن ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ ہم کل صبح تک اس کے ذریعے سپلائی بحال کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘‘

صوبہ پنجاب کے علاوہ اسلام آباد کے بعض علاقوں میں گھریلو صارفین کو گیس کی سپلائی معطل ہو کر رہ گئی ہے جس سے شدید سردی کے موسم میں صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں ماضی میں بھی شدت پسند گیس پائپ لائنوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں لیکن حکام کے مطابق کم از کم دو سالوں کے وقفے کے بعد اس طرح کا واقعہ پیش آیا ہے جس نے ملک کی ایک بڑی آبادی کو شدید متاثر کیا۔
XS
SM
MD
LG