رسائی کے لنکس

logo-print

سیاچن: برفانی تودے گرنے کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری


سیاچن گلیشیئر کے گیاری سیکٹر میں گزشتہ ماہ برف کے تودے تلے دبنے والے فوجیوں کی تلاش کا کام جاری ہے جب کہ جمعہ کو اس دوران مختلف تودے گرنے سے امدادی کارروائیاں کچھ دیر کے لیے معطل بھی ہو گئیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ گیاری سیکٹر کے قریب پہاڑوں سے 12 مختلف چھوٹے تودے گرے تاہم ان سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا ہے۔

بیان کے مطابق تودوں کے گرنے سے کھدائی کی جگہ پر ایک جھیل سی بن گئی جس میں موجود پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔

مزید برآں برطانیہ کی ڈرہم یونیورسٹی میں قدرتی آفات کے انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر پیٹلے نے پاکستانی عہدے داروں کے ساتھ تحقیقاتی مطالعے کے لیے علاقے کا دورہ کیا ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت 49 انجینئرنگ پلانٹس اور کل 371 افراد تودے تلے دبے اہلکاروں کی تلاش کے کام پر معمور ہیں۔

سات اپریل کو گیاری سیکٹر میں برف کا ایک بڑا تودہ فوج کے ایک بٹالین ہیڈ کوارٹرز پر آگرا جس سے تقریباً 13 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع اس فوجی تنصیب میں موجود 129 اہلکار اور گیارہ شہری دب گئے جو تاحال لاپتا ہیں اور ان کی تلاش کے لیے کام جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG