رسائی کے لنکس

logo-print

جنرل باجوہ کی قانون سازوں کو بریفنگ خوش آئند قدم


جنرل قمر جاوید باجوہ (فائل فوٹو)

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے ملکی سلامتی اور چینلجز سے متعلق پارلیمان کے ایوان بالا کو دی گئی بریفنگ اور قانون سازوں کو جمہوریت کے لیے اپنی حمایت کی یقین دہانی کو ملک کے سیاسی و سماجی حلقے موجودہ ملکی صورتحال کے تناظر میں حوصلہ افزا اقدام قرار دے رہے ہیں۔

منگل کو جنرل باجوہ نے سینیٹ میں قانون سازوں کو ملکی صورتحال سے متعلق آگاہ کرنے کے علاوہ تقریباً تین گھنٹوں تک مختلف سوالوں کے جوابات دیے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان خارجہ اور دفاع کی پالیسیاں بنائے فوج اس پر عملدرآمد کرے گی۔

فوج پاکستان کا ایک طاقتور ترین ادارہ تصور کیا جاتا ہے اور عموماً خارجہ پالیسی پر اس کے اثر و رسوخ کی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم حکومتی عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں خارجہ امور کی پالیسی سازی کے دوران مختلف امور پر فوج سے بھی رائے لی جاتی ہے۔

اس تناظر میں جنرل باجوہ کی پارلیمان کو پالیسی سازی سے متعلق دی گئی وضاحت خوش آئند قرار دی جا رہی ہے اور غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون سازوں کو متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔

چونکہ یہ ایک بند کمرہ اجلاس تھا لہذا اس کی تفصیلات تو معلوم نہیں ہو سکیں اور فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ذرائع ابلاغ کو اتنا ہی بتانے پر اکتفا کیا کہ اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک کو درپیش خطرات کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق جنرل باجوہ نے سیاسی عمل میں فوج کی مداخلت کے تاثر کو بھی رد کیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کے پارلیمان میں آ کر قانون سازوں کو اعتماد میں لینے کا یہ قدم ایک اچھی روایت کی بنیاد بن سکتا ہے جسے جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت بھی بالغ نظری کا مظاہرہ کرے اور اداروں کے درمیان تناؤ پیدا کرنے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG