رسائی کے لنکس

logo-print

جنرل قمر باجوہ نے چار دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی


ان مجرموں میں کراچی میں پولیس کے اعلیٰ عہدیدار چودھری اسلم اور فاروق اعوان سمیت مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں 58 افراد کی ہلاکت جیسے حملے کرنے والے بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے چار مجرموں کی سزا کی توثیق کر دی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ "آئی ایس پی آر" نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ جن مجرموں کی سزاؤں کی توثیق کی گئی وہ معصوم شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کے قتل کے علاوہ مختلف گھناؤنے جرائم میں ملوث تھے۔

بیان کے مطابق ان دہشت گردوں نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ہوائی اڈے، محکمہ پولیس کے تفتیشی ادارے سی آئی ڈی، سکھر میں فوج کی انٹیلی جنس ایجسنی آئی ایس آئی کے دفتر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قافلوں پر حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائی میں حصہ لیا۔

ان مجرموں میں کراچی میں پولیس کے اعلیٰ عہدیدار چودھری اسلم اور فاروق اعوان سمیت مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں 58 افراد کی ہلاکت جیسے حملے کرنے والے بھی شامل ہیں۔

2015ء کے اوائل میں پاکستان کے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے ملک میں دو سال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں جن میں دہشت گردی اور ایسے ہی دیگر سنگین جرائم کی سماعت اور مجرموں کو سزائیں دینے کا عمل شروع ہوا۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں ان عدالتوں کی کارروائیوں میں شفافیت پر سوال اٹھاتی رہی ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ان میں بھی ملزمان کو اپنی صفائی کا پورا موقع اور وکیل کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

فوجی عدالتوں سے اب تک درجنوں دہشت گردوں کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ گزشتہ ہفتے فوج کی کمان سنبھالے والے جنرل قمر باجوہ نے پہلی مرتبہ فوجی عدالتوں سے سزا پانے والوں کی سزاؤں کی توثیق کی ہے۔

XS
SM
MD
LG