رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف پوری قوم متحد ہے: جنرل راشد محمود


جنرل راشد نے تربیت مکمل کرنے والوں پر زور دیا کہ پاکستان کو اس وقت جن داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے اس کے تناظر میں انھیں چاہیے کہ وہ جدید جنگی تقاظوں سے خود کو ہم آہنگ کریں۔

پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود نے کہا ہے کہ پوری قوم دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف متحد ہے اور شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب سے حاصل ہونے والی کامیابیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ شرپسندوں کو شکست دینے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ کو فوج کی مرکزی تربیت گاہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں فارغ التحصیل ہونے والے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جنرل راشد نے تربیت مکمل کرنے والوں پر زور دیا کہ پاکستان کو اس وقت جن داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے اس کے تناظر میں انھیں چاہیے کہ وہ جدید جنگی تقاظوں سے خود کو ہم آہنگ کریں۔

پاکستانی فوج نے گزشتہ سال جون میں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف "ضرب عضب" کے عنوان سے بھرپور کارروائی شروع کی تھی جس میں اب تک تین ہزار سے زائد ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بتایا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ پورے ملک میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر منظم کارروائیاں کی جا رہی ہیں جس میں درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک اور سیکڑوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

گزشتہ دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے طالبان کے ہلاکت خیز حملے کے بعد ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے قومی لائحہ عمل وضع کیا گیا تھا جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے طول و عرض میں شر پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ہفتہ کو ہی اطلاعات کے مطابق شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے مرکزی شہر پشاور میں انسداد دہشت گردی فورس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک کالعدم تنظیم کے چار کارندوں کو گرفتار کر لیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حسن گڑھی نامی علاقے سے گرفتار کیے گئے افراد مبینہ طور پر کالعدم تنظیم حزب التحریر سے متعلق تحریری مواد تقسیم کر رہے تھے۔

قومی لائحہ عمل کے تحت دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے معاونین اور ان کی حمایت کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اگر اسی انداز میں جاری رہیں تو جلد ہی انتہا پسندی کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنے میں بھی قابل ذکر کامیابی حاصل ہو سکے گی۔

دریں اثنا قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں سے فرنٹیئر کور نے ایسے 18 مشتبہ شر پسندوں کو حراست میں لینے کا بتایا ہے جو کہ مبینہ طور پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے وسائل جمع کرتے تھے۔

حکام کے بقول ان افراد کے قبضے سے تقریباً ساڑھے چھ کروڑ مالیت کی غیر ملکی کرنسی اور بڑی مقدار میں سونا برآمد ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG