رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان گلوبل وارمنگ سے مقابلے کے پانچ نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے


اسپین کے شہر میڈرڈ میں ہونے والی عالمی گلوبل وارمنگ کانفرنس کے لوگو کے سامنے ایک شخص اپنی سیلفی بنا رہا ہے۔ یکم دسمبر 2019

میڈرڈ سے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے وفاقی وزیر ملک امین اسلم نے بتایا کہ پاکستان اس وقت آب و ہوا کی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں شامل ہے، اور کانفرنس میں اسے ان ملکوں میں شامل کیا گیا ہے جو آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے سب سے زیادہ اقدامات کر رہے ہیں۔

ان دنوں اسپن کے شہر میڈرڈ میں آب وہوا سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس جاری ہے۔ جس میں پاکستان کے وفاقی وزیر اور وزیر اعظم کے مشیر ماحولیات ملک امین اسلم پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے گرین کلائمیٹ فنڈ کے پریذیڈنٹ بھی ہیں۔

ملک امین اسلم نے پاکستان میں آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے کیے جانے و الے پراجیکٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا اس حوالے سے بہت واضح 5 نکاتی ایجنڈا ہے جس میں خاص طور پر پلاسٹک سے نجات کی مہم شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے دوران ماحولیاتی نظام کی بحالی کا ایک فنڈ قائم کیا جا رہا ہے جسے ایکو سسٹم ریسٹوریشن فنڈ کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہ فنڈ 11 دسمبر کو قائم ہو گا، جس کا مقصد ان ملکوں کو جو اس مہم میں پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں،ایک شفاف اور مستند پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔

ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان اس وقت گلوبل گرین کلائیمیٹ فنڈ کا شریک سربراہ بھی ہے اور اس کے پاس اس وقت فنڈز حاصل کرنے کے کافی مواقع ہیں۔

پاکستان میں پائیدار ترقی کے ایک بہت بڑے نیٹ ورک لیڈ پاکستان کے، سی ای او علی توقیر نے وائس آف امیریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس فنڈز سے زیادہ توقعات نہیں رکھی جا سکتیں ۔

انہوں نے کہا کہ گلوبل کلائیمیٹ فنڈز کے لئے سو ارب ڈالرز کی اپیل کی گئی تھی لیکن اس میں ابھی تک 20 ملکوں سے صرف دس ارب ڈالر سے بھی کم کی مدد کے وعدے کیے گئے ہیں، تو اس سے پاکستان کو زیادہ مدد ملنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی آب و ہوا کی وزارت کے ساتھ ساتھ دوسرے شعبے بھی مل کر کام کریں اور آب و ہوا کی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششیں کی جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG