رسائی کے لنکس

logo-print

موسمیاتی تبدیلیاں: 'پاکستان کو غذائی قلت کا خطرہ لاحق ہے'


فائل فوٹو

پاکستان کی وزیرِ مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ پاکستان میں اب چار موسم نہیں رہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ملکی زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے زرعی پیداوار میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔

زرتاج گل نے خدشہ ظاہر کیا کہ موسمیاتی تغیرات کے باعث پاکستان کو فوڈ سیکیورٹی یعنی غذائی قلت کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وزیر مملکت برائے ماحولیات زرتاج گل وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال گندم اور کپاس کی پیداوار میں خاصی کمی ہوئی ہے اور درمیانے موسم کی فصلیں کاشت نہیں کی جارہیں۔ جس کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مون سون کا پیٹرن (رجحان) تبدیل ہو گیا ہے۔ تاہم ہم نے اپنے کسانوں کو اس سے متعلق آگاہ نہیں کیا کہ انہوں نے فصلوں کو بے وقت بارشوں سے کیسے بچانا ہے۔

زرتاج گل کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گزشتہ سال گندم اور کپاس کی پیداوار میں خاصی کمی ہوئی ہے۔
زرتاج گل کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گزشتہ سال گندم اور کپاس کی پیداوار میں خاصی کمی ہوئی ہے۔

زرتاج گل نے کہا کہ انہوں نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی ہے کہ بدلتے موسموں سے لاحق خطرات کے بارے میں آگاہی کے لیے سرکاری ٹیلی ویژن پر وقت مختص کیا جائے جہاں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے حکام، ماہرین موسمیات اور قدرتی آفات سے نمٹنے والے اداروں کے ماہرین اس حوالے سے قبل از وقت خبردار کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے کسانوں کو بدلتے موسموں کے رجحان اور خطرات سے آگاہ نہ کرسکے تو مستقبل میں خوراک کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان قریب ایک دہائی سے بدترین صورت حال سے گزر رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ممالک کی فہرست میں نمایاں ہے۔

زرتاج گل کا کہنا تھا کہ گرمی کی لہر، زرعی زمین کا بنجر ہونا، صحرا کا پھیلنا، خشک سالی، پہاڑوں سے برف کا تیزی سے پگھلنا اور سیلاب جیسی آفات سب سے زیادہ ہمارے ملک میں وقوع پذیر ہوئی ہیں۔

وزیر مملکت کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنے کسانوں کو بدلتے موسموں کے رجحان اور خطرات سے آگاہ نہ کرسکے تو مستقبل میں خوراک کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ (فائل فوٹو)
وزیر مملکت کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنے کسانوں کو بدلتے موسموں کے رجحان اور خطرات سے آگاہ نہ کرسکے تو مستقبل میں خوراک کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ (فائل فوٹو)

زرتاج گل کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں آنے والی 10 میں سے سات قدرتی آفات کی وجہ موسمیاتی تغیرات ہیں۔ لیکن ان کے بقول، ماضی کی حکومتیں دنیا کو یہ بتانے میں ناکام رہی ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک کی صنعتی آلودگی کے باعث وہ کن مشکلات اور آفات کا شکار ہیں۔

وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی نے شکوہ کیا کہ موسمیاتی تغیرات کا باعث بننے والے ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے متاثرہ ملکوں کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔

اُن کے بقول، "پاکستان کا گلوبل وارمنگ میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن ہم متاثرہ ممالک میں سرِ فہرست ہیں اور جب بات موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے تدارک کی آتی ہے تو اس کے مؤجب بننے والے ترقی یافتہ ممالک پاکستان کا ساتھ نہیں دیتے۔"

وزارت موسمیاتی تبدیلی کی رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان کو 3.8 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور اس بنا پر پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے معاشی نقصانات اٹھانے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی کی رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان کو 3 اشاریہ 8 بلین ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)
وزارت موسمیاتی تبدیلی کی رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان کو 3 اشاریہ 8 بلین ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)

زرتاج گل نے بتایا کہ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ دو طرفہ معاملات میں ماحولیاتی آلودگی اور 'اسموگ' کو زیرِ بحث لایا جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسموگ یعنی دھوئیں کے بادل کی بڑی وجہ بھارت سے آنے والی آلودہ ہوا ہے۔

زرتاج گل کہتی ہیں کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ملک ہونے کی حیثیت سے ماحولیات کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہیں اور ہمسایہ ملک بھارت کو بھی فضائی آلودگی کے تدارک کے لیے قابل اطمینان اقدامات کرنا ہوں گے۔

وزیر مملکت برائے ماحولیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سموگ کی بڑی وجہ بھارت سے آنے والی آلودھا ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)
وزیر مملکت برائے ماحولیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سموگ کی بڑی وجہ بھارت سے آنے والی آلودھا ہوا ہے۔ (فائل فوٹو)

انہوں نے کہا کہ ماحولیات ہماری حکومت کی ترجیح اور قومی ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ جس کی مثال وزیرِ اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں تقریر ہے۔ جس کا آغاز انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں سے کیا تھا۔

وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی بات تو کی جاتی ہے۔ لیکن دریاؤں کے پانی کو ضائع ہونے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جاتے۔

'پاکستان میں چار موسم نہیں رہے'

وزیرِ ماحولیات کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زیرِ زمین پانی کے استعمال کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں ہے اور وزیرِ اعظم نے وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کی سفارش پر واٹر ٹیبل ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ جس پر شراکت داروں سے بات چیت کے ذریعے اسے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

زرتاج گل کا کہنا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے جو کہ 1200 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔ (فائل فوٹو)
زرتاج گل کا کہنا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے جو کہ 1200 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔ (فائل فوٹو)

انہوں نے کہا کہ زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے جو کہ 1200 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیرِ زمین پانی کے استعمال اور بچت کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویوں کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بہار، گرمی، خزاں اور سردی کی صورت میں چار موسم تھے۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث اب گرمی اور سردی، صرف دو موسم رہ گئے ہیں۔

'اسلام آباد مارچ کو خوش آمدید کہتے ہیں'

حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کے حوالے سے زرتاج گل کا کہنا تھا کہ اُن کی حکومت اپوزیشن کے مارچ سے خوف زدہ نہیں ہے کیونکہ ان کا مقصد عوامی مسائل نہیں بلکہ کرپشن کے الزمات میں گرفتار اپنی قیادت کو بچانے کے لیے آخری کوشش کرنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG