رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردوں میں مبینہ تفریق کی پاکستانی پالیسی پر تنقید


تاہم پاکستانی حکام تواتر سے کہتے رہے ہیں تمام ہی دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول اسپتال میں ہونے والے خودکش بم حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان کے ایک دھڑے ’جماعت الاحرار‘ نے قبول کی تھی۔

اس بم حملے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت وکلا کی تھی، جو فائرنگ کے نتیجے میں بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال انور کاسی کی ہلاکت کے بعد اُن کی میت لے جانے کے لیے سول اسپتال پہنچے تھے۔

مقامی وکلا کا کہنا ہے کہ سول اسپتال میں خودکش بم حملے میں چالیس سے زائد وکیل مارے گئے جب کہ 100 سے زائد زخمیوں میں بھی اکثریت وکلا کی ہے۔

اس حملے کے بعد ملک کے سیاسی رہنماؤں اور تجریہ کاروں نے ملک میں سرگرم مختلف عسکریت پسند دھڑوں کے خلاف خلاف موثر کارروائی کے حوالے حکومت کی سنجیدگی سے متعلق سوال اٹھائے ہیں۔

قندھارا ’ریڈیو فری یورپ‘ کے ابوبکر صدیقی نے اس حوالے سے مختلف شخصیات سے بات چیت کی۔

اُن کی رپورٹ کے مطابق بعض مبصرین پاکستان کے طاقتور سکیورٹی اداروں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ’’اچھے‘‘ اور ’’برے‘‘ دہشت گردوں میں تمیز کرتے ہیں اور مبصرین کے بقول یہ ادارے افغانستان اور بھارت پر حملوں میں ملوث ’’اچھے‘‘ دہشت گردوں کی معاونت کرتے ہیں اور انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

مبصرین کی طرف سے یہ بھی الزام لگایا گیا کہ پاکستان میں صرف ان ’’برے‘‘ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جو 2004 سے عام شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں سمیت ساٹھ ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت میں ملوث ہیں۔

تاہم پاکستان کی طرف سے ایسے الزامات کی سخت سے تردید کی جاتی رہی ہے اور پاکستانی حکام تواتر سے کہتے رہے ہیں تمام ہی دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جا رہی ہے۔

حکومت میں شامل عہدیداروں اور عسکری کمانڈر یہ کہتے رہے ہیں کہ پاکستان میں اب ’’اچھے اور برے دہشت گردوں‘‘ میں کوئی تفریق نہیں۔

ابوبکر صدیق کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قومی اسمبلی کے رکن اور جمعیت العلمائے السلام (فضل الرحمان گروپ) کے رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے سوال اٹھایا کہ ’’(سکیورٹی) اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے لیے ہے یا پاکستان سیکورٹی اسٹیبلمشمنٹ کے لیے ہے‘‘۔

پاکستان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں سچ بتایا جائے، اندرونی طاقتیں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ ہمارے اندر سے ہی لوگ ہم پر حملے کر رہے ہیں۔‘‘

مولانا شیرانی نے بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اس دعویٰ کو مسترد کر دیا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کوئٹہ میں ہونے والے حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہے۔

کوئٹہ میں 8 اگست کو ہوئے دہشت گرد حملے کے چند ہی گھنٹوں کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ثنااللہ زہری نے اس حملے کا الزام ’را‘ پر عائد کیا۔ پاکستانی عہدایدروں کے طرف سے عموماً پاکستان کے امن و امان کو خراب کرنے کے کارروائیوں کا الزام بھارت پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔

مولانا شیرانی کا کہنا تھا کہ ’’بلوچستان میں کوئی 'را' نہیں ہے‘‘۔اُن کا کہنا تھا کہ ’’یہ ہمارے اپنے ہی بنائے ہوئے لوگ ہیں‘‘۔

بظاہر وہ ان عسکریت پسندوں کی بات کر رہے تھے جو افغانستان میں سرگرم ہیں یا بھارت کے اندر حملوں میں ملوث ہیں۔

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور بلوچستان ہی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ’’صرف را پر الزام لگانے سے کام نہیں چلے گا‘‘۔

اچکزئی کی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی بلوچستان کی صوبائی حکومت میں بھی شریک ہے تاہم اس کی طرف سے تواتر کے ساتھ پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں پر اُن عسکریت پسندوں کی حمایت کا الزام لگایا جاتا رہا ہے جو افغانستان اور بھارت کے خلاف سرگرم ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر الزامات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ وہ ایسے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں، فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جانیں دے کا ملک کا تحفظ کر رہے ہیں۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ’’ہم کندھے سے کندھا ملا کر اُن کے ساتھ کھڑے ہوں، کیا یہ بطور پارلیمنٹرین ہم پر لازم نہیں ہے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے گئے وہ اُن کے عزم کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

دوسری طرف کئی ایک مبصرین اسلام آباد کی طرف سے انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر پوری طرح عمل نا کرنے کے حوالے سے تنقید کرتے ہیں۔

پاکستانی طالبان نے دسبمر 2014 میں پشاور آرمی پبلک اسکول پر ہوئے مہلک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں مسلح افراد نے 124 بچوں سمیت لگ بھگ 150 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے انسداد دہشت گردی کا قومی لائحہ عمل مرتب کیا۔

اس 20 نکاتی قومی لائحہ عمل میں ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے لیے کئی اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا۔

پاکستان کے ایک سابق قانون ساز افرسیاب خٹک نے کہا کہ ’’ بدقسمتی سے ریاست اس قومی لائحہ عمل پر عمل کرنے کے لیے سیاسی عزم پر متفق نا ہو سکی۔‘‘

’’صرف ایک اقدام پر عمل ہوا وہ تھا فوجی عدالتوں کا قیام۔ مدرسوں میں اصلاحات، کا لعدم تنظیوں کے نام تبدیل کر کے سرگر م ہونے پر پابندی، قبائلی علاقوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا اور پنجاب میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی جیسے اقدامات پر عمل نہیں ہوا ہے‘‘

افراسیاب نے کہا کہ پاکستان کے کچھ حلقوں کی طرف سے افغان طالبان کی حمایت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ نے بدھ کو قومی اسمبلی میں کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف قومی لائحہ پر عمل درآمد جاری ہے اور اسے مزید موثر بنانے کے لیے جمعرات کو بھی ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہو گا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی بلایا گیا ہے۔

اُنھوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منتقی انجام تک پہنچانے میں یکجا ہو کر کام کریں گے۔

XS
SM
MD
LG