رسائی کے لنکس

logo-print

حزبِ اختلاف اقتصادی اصلاحات کے لیے تعاون کرے: وزیرِ خزانہ


وزیر خزانہ اسد عمر (فائل فوٹو)

اسد عمر نے مزید کہا کہ پاکستان کو درپیش تجارتی خسارہ سب سے زیادہ چین کے ساتھ ہے اور چین کی مدد سے اس خسارے کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گا۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے پاکستان کو درپیش معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں سے تجاویز طلب کی ہیں۔

اسد عمر نے یہ بات منگل کو پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں پاکستان کی طرف سے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش اقتصادی مشکلات کی وجہ سے بیل آؤٹ پیکچ کے لیے پاکستان کو دوست ممالک کے ساتھ عالمی مالیاتی فنڈ یعنی ' آئی ایم ایف' سے رجوع کرنا پڑا اور ا ن کے بقول وہ یہ توقع کرتے ہیں یہ آخر ی بار ہو گا کہ پاکستان بیل آؤٹ پیکیج کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ ماضی کی حکومتیں بھی عالمی مالیاتی فنڈ سے رجوع کرتی رہی ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ 'آئی ایم ایف' سے رجوع کرنا ان کے بقول کوئی نئی بات نہیں ہے اور ان کی حکومت آئی ایم ایف سے 19 ویں بار رجوع کر رہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ دوبارہ مستقبل میں کسی حکومت کو ' آئی ایم ایف' سے رجوع نہ کرنا پڑے۔

اسد عمر نے کہا " ہمیں اسے آئی ایم ایف کا آخری پروگرام بنانا ہوگا تاکہ آئندہ پاکستان کسی ایسی صورت حال میں نہ کھڑا ہو کہ نئی حکومت عوام کی بہتری کی طرف توجہ دینے کی بجائے ایک بحرانی کیفیت سے بچنے کی کوشش کر رہی ہو۔"

انہوں نے حزب مخالف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں وہ اقتصادی اصلاحات کے لیے حکومت سے تعاون کرے۔

" حزب مخالف کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں سے توقع کرتے ہیں کہ ٹھوس تجاویز دیں گی تاکہ ان کو ہم اپنے (اقتصادی) منصوبے کا حصہ بناسکیں۔"

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب پاکستان معیشت کی بہتری کے لیے ضروری اصلاحات پر پائیدار بنیادوں پر عمل جاری رکھے گا بصورت دیگر پاکستان کو بار بار 'آئی ایم ایف' سے رجوع کرنا پڑے گا۔

اقتصادی امور کے ماہر اور پاکستان کے سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ نے جمعے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " اس کے لیے پاکستان کو توانائی، ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے ساز گار ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنے کے زیادہ لئے آسان بنانا ہو گا تاکہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکے۔"

انہوں نے مزید کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے اپنی برآمدات میں اضافے کے لیے موثر اقدامات کرنا ضروری ہوں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ حکومت دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی شعبو ں میں دور رس اصلاحات کو بھی وضح کر رہی ہےجس میں حال ہی میں کیے گئے برآمدای صنعت کے لیے بجلی کی قیمت کو کم کرنا اور ٹیکسوں میں اضافے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے بحران کی وجہ ان کے بقول پاکستان کے بین الاقوامی قرضوں میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں ہونے والی مسلسل کمی ہے اسی وجہ سے نا صرف پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں مشکلات پیدا ہوئیں بلکہ پاکستانی روپے کی قدر میں بھی کمی واقع ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ان وجوہات کی بنا پر پاکستان کی معیشت کو درپیش بحران بیل آؤٹ پیکچ کے بغیر چھٹکارہ نہیں مل سکتا تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے لیے دوست ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی سلسلے میں سعودی عرب سے بات چیت ہوئی جس کی وجہ سے سعودی عرب نے پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے پاکستان کے اسیٹ بینک کے پاس تین ارب ڈالر رکھنے پر اتفاق کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے آئندہ تین سالوں کے لیے ہر سال تین ارب ڈالر کا تیل موخر ادائیگی کے ساتھ فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اسد عمر نے مزید کہا کہ بعض دیگر ممالک کے ساتھ بھی معاونت کے لیے بات چیت جاری ہے تاکہ ہمار ا دارا و مدار صرف آئی ایم ایف کے اوپر نہیں ہوگا۔

" ہماری کوشش ہے کہ ہمارا کسی ایک طرف دارومدار نا ہو ، جب ہم آئی ایم ایف کے ساتھ (بیل آؤٹ پیکچ) کی بات کریں تو 100 فیصد ہمار ا دار و مدار آئی ایم ایف پر نہ ہو"

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جو مالیاتی پیکج کی ضرورت ہے وہ ان کے بقول آئی ایم ایف سے حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ " کچھ پیسہ (قرضہ) آئی ایم ایف سے آتا ہے اور اس کے ساتھ دوست ممالک کے ساتھ بہتر شرائط پر قرضہ حاصل ہوتا ہے اس لیے ہم دوست ممالک سے رجوع کر رہے ہیں۔"

اسد عمر نے مزید کہا کہ پاکستان کو درپیش تجارتی خسارہ سب سے زیادہ چین کے ساتھ ہے اور چین کی مدد سے اس خسارے کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ حکومت درآمدی صنعتوں کو بھی زیادہ زیادہ سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ ملک میں روزگار میں اضافے کے ساتھ ساتھ درآمدات میں بھی اضافہ ہو سکے تاکہ پاکستان معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کر سکیں ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG