رسائی کے لنکس

logo-print

عمر رسیدہ افراد کی طبی ضروریات پر خصوصی توجہ دینے پر زور


اس سال صحت کے عالمی دن کا موضوع ’’اچھی صحت زندگی بڑھاتی ہے‘‘ رکھا گیا اور اسی دن کی مناسبت سے پاکستان میں سرکاری و نجی سطح پر منعقدہ تقاریب میں صحت مند زندگی گزارنے سے متعلق شعور و آگاہی مہم کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر صحت مندانہ طرز زندگی اور ناقص غذائی عادات فی زمانہ لوگوں میں بڑھتی ہوئی مختلف بیماریوں کی وجوہات میں اہم کردار ادا کررہی ہیں جب کہ دوسری طرف ملک میں سرکاری سطح پر علاج معالجے کی سہولتوں کی غیر تسلی بخش صورتحال اور نجی شعبے میں علاج مہنگا ہونے کے باعث مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ملک میں سربراہ ڈاکٹر گیودو صباتنیلی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی کل آبادی کے پانچ فیصد افراد کی عمر 60 سال سے زائد ہے جن میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر گیودو نے کہا کہ پاکستان میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو صحت کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کی جانب سوچنا ہو گا کیوں کہ ان کی ضروریات عام لوگ سے مختلف ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صحت کے مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ حکومت صحت کے شعبے میں زیادہ وسائل خرچ کرے۔

تاہم صحت کے عالمی دن کے موقع پر صدر اور وزیراعظم نے اپنے اپنے پیغامات میں اس عوام کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے پیغامات میں پاکستانی قائدین کا کہنا تھا کہ عمر رسیدہ افراد کو معاشرے کا فعال رکن بنانے اور ان افراد کو طبی سہولت فراہم کرنے والوں کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ان افراد کے بیماریوں کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جن میں بلڈ پریشر، ذیابیطس، جوڑوں کا درد، بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں کمی اور کینسر شامل ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈھلتی عمر کے ساتھ انسانوں کو اپنی خوراک کی عادات میں تبدیلی پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

ماہر غذائیات بینش جمال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایسی سادہ غذا استعمال کرنی چاہیے جس سے انسانی جسم کو درکار تمام ضروری غذائی اجزا میں مل سکیں اور یہ کسی فرد کی معاشی حالت کو بھی متاثر نہ کرے۔

’’گندم میں بھرپور غذائیت ہوتی ہے اگر اس موسم میں دہی کے ساتھ روٹی کھائی جائے تو یہ پوری طرح سے انسانی جسم کو درکار اجزا فراہم کرتی ہے۔ گوشت کی بجائے دالوں پر زیادہ انحصار کرنا چاہیے۔‘‘

دنیا بھر میں 1950ء سے ہر سال سات اپریل کو صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس سال 60 سال سے زائد عمر والے افراد کی طبی ضروریات پر توجہ دی گئی ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں اوسط عمر 66 سال ہے جب کہ آئندہ دہائی میں توقع ہے کہ یہ حد 72 سال تک ہو گی۔

XS
SM
MD
LG