رسائی کے لنکس

2012ء تک پاکستان سے پولیو کے خاتمے کا عزم


2012ء تک پاکستان سے پولیو کے خاتمے کا عزم

پاکستان کا دورہ کرنے والے عالمی ادارہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدے دار ڈاکٹر حسین اے جزیری کا کہنا ہے کہ اُن کا ادارہ مقامی محکموں کے تعاون سے 2012ء کے اختتام تک پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک 44 بچوں میں پولیو وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے جب کہ 2010ء کے پہلے پانچ مہینوں میں اس وائرس سے 20 بچے متاثر ہوئے تھے۔ 2011ء میں پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں میں سے 18 کا تعلق ملک کے قبائلی علاقوں سے ہے۔

ڈاکٹر حسین اے جزیری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے علاوہ بلوچستان کے دو اضلاع قلعہ عبداللہ اور پشین کے علاوہ کراچی میں پولیو وائرس کی موجودگی یقیناً باعث تشویش ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جسمانی معذوری کا باعث بننے والے اس وائرس کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

ڈبلیو ایچ او کے عہدے دار نے بتایا کہ پاکستان دنیا کے اُن چا ر ممالک میں سے ایک ہے جہاں پولیو کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔ دیگر تین ممالک میں بھارت ، افغانستان اور نائیجریا ہیں۔

ڈاکٹر حسین اے جزیری نے بتایا کہ اس سال اب تک بھارت میں ایک جب کہ افغانستان میں پولیو سے تین بچے متاثر ہو ئے ہیں۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 2011ء کے دوران ملک سے پولیو کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی وہ چاروں وزرائے اعلیٰ اور گورنر خیبر پختون خواہ کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں۔

محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں پولیو کے زیادہ کیس سامنے آنے کی بنیادی وجوہات میں جولائی 2010ء میں آنے والے سیلاب کے علاوہ قبائلی علاقوں سمیت بعض دیگر اضلاع میں سلامتی کی خراب صورت حال کے باعث پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے والی ٹیموں کو بچوں تک رسائی میں دشواریاں ہیں۔

وزارت صحت کے مطابق 2010ء میں پولیو نے ملک بھر میں تقریباً 134 بچوں کو متاثر کیا جن میں سے 66 کا تعلق تشدد اور عسکریت پسندی سے متاثرہ فاٹا سے ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 1994ء میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ جب اس مہم کا آغاز کیا گیا تو اُس وقت ملک میں سالانہ 30 ہزار بچے پولیو سے مفلوج ہو رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG