رسائی کے لنکس

logo-print

ہندو لڑکیوں کی رہائی کا حکم


رنکل کماری قبول اسلام کے بعد فریال بی بی

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ہندو لڑکیوں کو مبینہ طور پر مذہب تبدیل کرکے مسلمان لڑکوں سے شادی کرنے پر مجبور کرنے سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے تینوں لڑکیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے بدھ کو مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ان ہندوں لڑکیوں کو یہ اختیار دیا کہ وہ اپنی مرضی سے شوہر یا پھر اپنے والدین کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کریں۔

عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں کہا ہے کہ فریال بی بی (رنکل کماری)، حفضہ بی بی ( ڈاکٹر لتا) اور حلیمہ بی بی (آشا کماری) مذہب تبدیل کرنے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر آزاد ہیں۔

جس کے بعد تینوں خواتین نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں اپنے بیان ریکارڈ کرائے اور سندھ پولیس کے حکام نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ نو مسلم ہندو لڑکیاں اپنے شوہروں کے ساتھ جانے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔

اس سے پہلے عدالت عظمیٰ نے فریال بی بی اور حفضہ بی بی کو تین ہفتے کے لیے کراچی میں ایک دارالامان بھجوایا دیا تھا تاکہ وہ بغیر کسی دباؤ کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔

لڑکیوں کے والدین کا الزام ہے کہ ان کی بیٹوں کو اغواء کر کے زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا۔ ہندو کمیونٹی کا الزام ہے کہ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی میاں عبدالحق مٹھو بھی ’’لڑکیوں کے اغواء‘‘میں ملوث ہیں۔

جبکہ فریال بی بی (رنکل کماری) نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ اسلام قبول کرنے کے حوالے سے ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا اور وہ اسلام کی تعلیمات کو پسند کرتی ہیں جب کہ انھوں نے اپنی مرضی سے نوید شاہ سے شادی کی ہے۔

XS
SM
MD
LG