رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کے ساتھ امن بات چیت; پاکستان پُرامید، افغانستان کو شبہات


’’پاکستان کو اُن وعدوں کی پاسداری کرنا ہوگی جو اُس نے چار فریقی اجلاسوں کے دوران کیے تھے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، ہم امن مذاکرات کے حوالے سے اپنا موجودہ مؤقف جاری رکھیں گے‘‘: ترجمان افغان صدر

ایک اعلیٰ پاکستانی عہدے دار نے افغان امن مذاکرات کی بحالی کے بارے میں اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ افغانستان اِس عمل میں دوبارہ شریک ہونے پر تیار ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ، سرتاج عزیز نے جمعے کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ امن بات چیت ہفتوں کے اندر اندر جاری ہو سکتی ہے، جو عمل 2015ء میں اُس وقت معطل ہوا جب طالبان رہنما ملا عمر کی فوتگی اور بعدازاں 2016ء میں ملا منصور کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئیں۔

ہفتے کو جب عزیز کے اس تخمینے کے بارے میں افغان صدر اشرف غنی کے معاون ترجمان، دعویٰ خان میناپال سے سوال کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ابھی اس بات کا مظاہرہ کرنا ہے کہ وہ امن عمل کے عزم پر قائم ہے، جس کے لیے اُسے اُن شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی جو افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔

میناپال کے بقول، ’’پاکستان کو اُن وعدوں کی پاسداری کرنا ہوگی جو اُس نے چار فریقی اجلاسوں کے دوران کیے تھے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، ہم امن مذاکرات کے حوالے سے اپنا موجودہ مؤقف جاری رکھیں گے‘‘۔

آخری چار فریقی اجلاس مئی میں منعقد ہوا تھا جس میں امریکہ، افغانستان، پاکستان اور چین کی حکومتوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ طالبان کے نمائندوں نے شرکت سے انکار کیا تھا۔

بات چیت کے دوران، پاکستان نے عہد کیا کہ اُن شدت پسند گروپوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو افغانستان پر حملے کرتے ہیں۔ کئی برسوں تک افغان حکام پاکستان پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ ’’اچھے دہشت گردوں‘‘ کی تفریق جاری رکھے ہوئے ہے جو افغان اور غیرملکی فوجوں پر حملوں میں ملوث ہیں؛ اور ’’خراب دہشت گرد‘‘ جو پاکستانی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔

دعویٰ خان میناپال کے الفاظ میں’’یہ اقدام کرکے پاکستان کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ سارے شدت پسندوں کے خلاف ہے اور وہ اچھے اور برے دہشت گردوں کی تمیز جاری نہیں رکھے گا‘‘۔

اُنھوں نے اِس بات کا عندیہ دیا کہ جب تک ایسا نہیں ہوتا، افغان حکومت مذاکرات میں شریک نہیں ہوگی۔

اعتماد کا فقدان

گذشتہ ماہ وارسا میں نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران، افغان صدر اشرف غنی نے سربراہان کو بتایا کہ پاکستان کے علاوہ خطے کے سارے ملک افغانستان کے استحکام کے حامی ہیں۔

غنی نے سربراہ اجلاس کو بتایا کہ ’’ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ہمارے علاقائی اقدام تعاون کی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں، جب کہ پاکستان کا معاملہ دیگر ہے۔ چار فریقی امن عمل اجلاس میں واضح اظہارِ عزم کے باوجود، اُس کی جانب سے اچھے اور بُرے دہشت گردوں کی تمیز کی روایت اب بھی جاری ہے‘‘۔

سنہ 2014میں اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر غنی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے باب کے آغاز کا عہد کیا، جس کی بنیاد باہمی اعتماد اور اعتماد سازی پر رکھی جائے گی۔ جولائی 2015ء میں معاملہ پٹری پر لگ رہا تھا جب خودساختہ ’’مری مذاکرات‘‘ ہوئے، جو طالبان اور أفغان حکومت کے درمیان پہلے براہِ راست سرکاری مذاکرات ثابت ہوئے۔ یہ بات چیت پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہوئی ، جسے پاکستان اور أفغانستان کے رہنماؤں کے نئے انداز فکر کا ثمر قرار دیا تھا۔

بات چیت کا دوسرا دور جولائی 2015ء میں ہونا تھا، لیکن جب ملا عمر کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی، انھیں ملتوی کیا گیا۔

سنہ 2016 میں افغانستان، پاکستان، چین اور امریکہ نے تعطل کے شکار امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی نئی کوششیں شروع کیں۔ چار فریقی رابطہ گروپ کا کابل اور اسلام آباد میں پانچ بار اجلاس ہوا، جس میں طالبان کے نمائندے موجود نہیں تھے۔

کیا پاکستانی ’کریک ڈاؤن‘ کافی ہے؟

ریٹائرڈ جنرل طلعت مسعود کا خیال ہے کہ شدت پسند گروہوں سے نمٹنے کے سلسلے میں پاکستان نے بہت کچھ کیا ہے، اور یہ کہ ملک اپنی سلامتی کو داؤ پر لگائے بغیر، اتنا ہی کچھ کر سکتا تھا۔

بقول اُن کے، ’’پاکستان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہم نے جتنا کچھ کیا ہے اُس سے زیادہ نہیں ہوسکتا تھا، ہمیں سبھی سے ٹکرانا ہوگا۔ جنرل (ر) مسعود نے کہا کہ ایسا ہے کہ (پاکستان) یہ نہیں چاہتا کیونکہ ہم پہلے ہی اپنی لڑائی میں جُتے ہوئے ہیں۔ ہم کسی صورت بھی افغان جنگ نہیں لڑنا چاہتے‘‘۔

مسعود نے مزید کہا کہ اگر پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف دباؤ بڑھاتا ہے، تو وہ پاکستانی طالبان سے گٹھ جوڑ کر لیں گے، اور اِس سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو زیادہ خطرہ لاحق ہوگا۔

اینتھنی ایچ کورڈسمن کا تعلق ’سینٹر فور اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘ سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے کسی قسم کی معنی خیز کوششیں نہیں کیں، یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ طالبان نے امن مذاکرات میں شرکت سے دوری اختیار کر رکھی ہے، جب کہ بات چیت لڑائی اور حل کا توسیعی عمل بن چکا ہے۔

کورڈسمن کے بقول، ’’یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ طالبان کے نئے سربراہ نے خصوصی طور پر امن مذاکرات کو مسترد کر رکھا ہے اور کئی معاملوں میں، یہ امن مذاکرات محض لڑائی ناکہ حل کا توسیعی عمل بن گیا ہے‘‘۔

جنرل مسعود کے خیال میں حالیہ مہینوں اور سالوں کے دوران طالبان کی جانب سے افغانستان کا علاقہ ہتھیانے اور حربی فوائد کا حصول ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا اُن پر کوئی اثر نہیں ہے۔

مسعود کے الفاظ میں ’’وہ (طالبان) سمجھتے ہیں کہ وہ بہت آزاد ہیں۔ افغانستان میں اُن کے پاس ایک علاقہ ہے۔ وہ افغانستان سے حملے کر سکتے ہیں۔ افغان عوام کے ایک حصے کی جانب سے اُنھیں حمایت حاصل ہے، اور وہ لڑائی کو جاری رکھ سکتے ہیں‘‘۔

تاہم، افغان تجزیہ کار جنرل عتیق اللہ عمرخیل کہتے ہیں کہ تمام شدت پسند گروپوں سے مستعدی سے لڑنے سے انکار پاکستان کو الگ تھلگ کر دے گا۔ بقول اُن کے ’’پاکستان کو افغانستان میں باغیوں کی خفیہ مدد بند کرنا ہوگی اور اپنی سرزمین پر تمام دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کےخلاف سخت کارروائی جاری رکھنی ہوگی، وگرنہ بین الاقوامی سطح پر ملک کو مکمل تنہائی کے خدشے کا سامنا کرنا ہوگا‘‘۔

اہم امن عمل کی طویل منزل

ایک طویل عرصے سے، امن عمل کو افغانستان میں لڑائی کے خاتمے کے ایک طریقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے عام طور پر تمام فریق تعطل زدہ خیال کر رہے ہیں۔

تقریباً 15 برس کی لڑائی کے بعد افغانستان کی فوج امریکہ اور نیٹو فوجوں سے خاصی اعانت طلب کرتی ہے، حکومت کو غیر ملکی مالی حمایت درکار ہے جب کہ طالبان کی بغاوت کے باعث ملک بھر کے کچھ حصوں پر سرکاری کنٹرول خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ربیکا زِمرمن کا تعلق ’رینڈ کارپوریشن‘ سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ امن عمل سست روی کا شکار ہے، لیکن یہ بات غیر معمولی نہیں۔

زِمرمن کے بقول، ’’کسی بھی ملک میں کسی امن سمجھوتے کا راستہ کچھ قدم آگے کی جانب بڑھتا ہے تو کچھ جانب پیچھے۔ یہ اس عمل کا ایک قدرتی امر ہے اور ایسا ہی ہے‘‘۔

زمرمن نے مزید کہا کہ ’’کسی طور پر میں یہ نہیں کہنا چاہتی کہ افغانستان میں امن بات چیت کا مستقبل بالکل ہی ختم ہو چکا ہے۔ لیکن، چار فریقی رابطہ گروپ کی صورت میں، میرے خیال میں، آئندہ کافی عرصے تک یہ امکان ختم ہوچکا ہے‘‘۔

XS
SM
MD
LG