رسائی کے لنکس

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے ہمراہ جانے والے وفد نے پیر کی شام جدہ میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان سے ملاقات کی تھی۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سعودی عرب کے ایک روزہ دورے کے بعد منگل کی صبح وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان تنازع جلد حل ہو جائے گا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور اُن کے ہمراہ جانے والے وفد نے پیر کی شام جدہ میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان سے ملاقات کی تھی۔

وزیرِاعظم کے وفد میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اور خارجہ امور پر وزیرِاعظم کے مشیر سرتاج عزیز بھی شامل تھے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کی جغرافیائی سلامتی اور سالمیت کے تحفظ کے عزم کو ایک مرتبہ پھر دہرایا گیا۔

بیان میں شاہ سلمان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ مسلمان ممالک کے مفاد میں ہے۔

سرکاری بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بارے میں نواز شریف اور شاہ سلمان کے درمیان کیا بات ہوئی یا کن اُمور پر اتفاق ہوا۔

پاکستان کے قطر اور سعودی عرب دونوں ہی سے قریبی تعلقات ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک نے قطر سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے اور دوحا پر دہشت گردی گروپوں کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔

تاہم قطر ان الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔

سعودی عرب، قطر، اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی

سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات میں بڑی تعداد میں پاکستانی حصول روزگار کے لیے مقیم ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں لگ بھگ 22 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، جب کہ قطر میں موجود پاکستانیوں کی تعداد تقریباً 11 لاکھ اور متحدہ عرب امارات میں حصول روزگار کے لیے سکونت اختیار کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد تقریباً 12 لاکھ ہے۔

زرمبادلہ

ان تینوں ملکوں میں مقیم پاکستانی ہر سال لگ بھگ چھ سے سات ارب ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں جس کا ملک کی معیشت میں اہم کردار ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس میں سب سے بڑا حصہ سعودی عرب کا ہے جہاں مقیم پاکستانی سالانہ چار ارب ڈالر سے زائد اپنے ملک بھیجتے ہیں۔

دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات اور تیسرے نمبر قطر میں مقیم پاکستانی اپنی کمائی ہوئی رقم بطور زرمبادلہ ملک میں واپس بھیجتے ہیں۔

پاکستان نے 2016ء میں قطر سے مائع گیس ’ایل این جی‘ کے درآمد کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت قطر آئندہ 15 سال تک پاکستان کو ’ایل این جی‘ فروخت کرے گا۔

حالیہ تنازع کے بعد پاکستان کے وزیرِ پیٹرولیم نے وضاحت کی تھی کہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان تنازع سے ایل این جی معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG