رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان مذاکرات کی غیر مشروط پیش کش کے موقع سے فائدہ اٹھائیں: دفتر خارجہ


پاکستان نے افغانستان میں امن و سلامتی کے لیے افغان صدر اشرف غنی کی امن کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ غیر مشروط امن مذاکرات کی پیش کش کا فائدہ اٹھائیں۔

پاکستان نے جمعرات کو ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن و سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور وہ افغانستان کے مسئلہ کے پرامن حل کے لیے افغان صدر اشرف غنی کی مذاکرات کی پیش کش کی حمایت کرتا ہے۔

پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان امریکی محکمۂ خارجہ کی سینیئر عہدیدار برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور ایلس ویلز کے رواں ہفتے ہونے والے اسلام آباد کے دورے کے بعد سامنے آیا جب انہوں نے پاکستان کے سول اور اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات اور خطے اور افغانستان میں قیام امن کی جاری کوششوں کے بارے میں بات کی۔

جمعرات کو معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "وہ باربار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں امن و سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور اسلام آباد صدر اشرف غنی کے طالبان کو امن مذاکرات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری امن تنازع کا، ان کے بقول، کوئی فوجی حل نہیں ہے اور وہ توقع کرتے ہیں کہ طالبان مذاکرات کی غیر مشروط پیش کش کا فائدہ اٹھائیں گے۔

اعلیٰ امریکی سفارت کار کے حالیہ دورہٴ اسلام آباد کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکی محکمہٴ خارجہ کی سینیئر عہدیدار برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور سفیر ایلس ویلز نے اسلام آباد میں پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اُمور کے علاوہ علاقائی صورت حال خاص طور افغانستان پر بات چیت کے ساتھ ساتھ عید الفطر کے موقع پر افغانستان میں ہونے والی جنگ بندی اور افغان صدر اشرف غنی کی طالبان کو غیر مشروط مذاکرات کی پیش کش پر بھی گفتگو ہوئی۔

دوسری طرف افغان طالبان کا موقف ہے کہ افغانستان سے بین الاقوامی افواج کی موجودگی میں بات چیت کے کسی عمل میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی سینیئر عہدیدار برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور ایلس ویلز نے کابل کے اپنے حالیہ دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "طالبان کا بات چیت سے انکار اب ناقابلِ قبول ہوتا جا رہا ہے۔"

سفیر ویلز نے مزید کہا کہ "اس وقت مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹ وہ طالبان رہنما ہیں جو افغانستان میں مقیم نہیں ہیں۔"

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کا اشارہ طالبان کی اس قیادت سے ہے جو مبینہ طور پر پاکستان میں مقیم ہیں ۔ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ اسلام آباد ان پر اثر و رسوخ استعمال کر کے انہیں مذاکرات کی میز پر لائے اور حالیہ پاک امریکہ رابطے بھی طالبان کو مذکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی نے وائس امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان عمل کامیاب کروانا اسلام آباد کے اپنے مفاد ہے ’’پاکستان کا کردار اہم ہے اور ہونا بھی چاہیئے، کیونکہ افغانستان کی جنگ کا سب سے زیادہ منفی اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں پاکستان کا فیصلہ کن کردار نہیں ہے طالبان اپنے فیصلے اپنی مرضی سے اور بہت دیکھ بھال کر کرتے ہیں۔ "

پاکستان کا موقف ہے کہ ماضی کی نسبت اب اسلام آباد کا طالبان پر اثر و رسوخ کم ہو گیا ہے اور پڑوسی ملک میں امن افغانوں کی زیر قیادت مذاکرت سے ہی ممکن ہے۔ تاہم، پاکستان امن و مصالحت کی کوشش کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG