رسائی کے لنکس

logo-print

’سی پیک‘ منصوبے کے بارے گلگت بلتستان کے لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے: ایچ آر سی پی


پاکستان میں انسانی حقوق کے ایک بڑے غیر سرکاری ادارے ’ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ یعنی ’ایچ آر سی پی‘ نے ملک کے شمالی پہاڑی علاقے گلگت بلتستان کے بارے میں جمعہ کو ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

اس رپورٹ میں گلگت بلتستان کے رہنے والوں کو مزید حقوق دینے کے علاوہ اُن کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا گیا۔

’ایچ آر سی پی‘ کی سابق چیئرپرسن اور معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کی قیادت میں ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ایک ’فیکٹ فائنڈنگ مشن‘ نے گزشتہ سال اگست میں گلگت بلتستان کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد ایک رپورٹ تیار کی گئی۔

جمعہ کو اسلام آباد میں ایک تقریب میں یہ رپورٹ جاری کی گئی، اس موقع پر عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے بارے میں گلگت بلتستان کے عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔

’’اب دیکھیں (چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ) ’سی پیک‘ ترقیاتی منصوبہ ہے، ہم ترقی کے مخالف نہیں ہیں ہم اس کو خوش آمدید کہتے ہیں۔۔۔ لیکن اگر آپ نے ڈیویلپمینٹ کرنی ہے تو آپ بھی اپنے گھروں کے بیچ میں سے دیواریں اٹھائیں اور سڑکیں نکالیں اور اگر ضروری ہے کسی کا کرنا تو ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ جن کی زمینیں وہاں پر لی گئیں اُنھیں معاوضہ دیا جائے۔‘‘

’ایچ آر سی پی‘ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گلگت بلتستان میں رہنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کا استعمال روکا جائے۔

وفاقی حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے نا صرف پورے ملک کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اس منصوبے کے ثمرات سے گلگت بلتستان کے لوگ خاص طور پر مستفید ہو سکیں گے۔

جب کہ عہدیداروں کے مطابق گلگت بلتستان کے رہنے والوں کو بنیادی انسانی حقوق اور سہولتوں کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ لگ بھگ 50 ارب ڈالر مالیت کے اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت چین کے مغربی علاقے سنکیانگ سے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر تک سڑکوں اور ریلوے لائنوں کا جال بچھانے کے علاوہ مواصلاتی ڈھانچے کی تعمیر، توانائی کے منصوبوں اور صنعتی زونز کا قیام شامل ہے۔

گلگت بلتستان کا علاقہ چین کی سرحد کے قریب واقع ہے اور ’سی پیک‘ منصوبوں کے لیے دیگر علاقوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی مقامی لوگوں سے زمینیں حاصل کی گئی ہیں۔

البتہ حکومت کا کہنا ہے کہ ان زمینوں کا معاوضہ ادا کیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG