رسائی کے لنکس

'یہ حق کسی کو نہیں کہ پوچھے کون کتنا مسلمان ہے'


عاصمہ جہانگیر (فائل فوٹو)

انسانی حقوق کےایک موقر غیر سرکاری ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک کے سول اداروں میں فوج کے بڑھتے ہوئے مبینہ اثر و رسوخ اور جمہوری نظام کو درپیش خطرات، عام شہریوں کےحقوق اور ملک کیاقلیتوں کی مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے حقوق کا میثاق وضع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بات ایچ آر سی پی کی ترجمان اور معروف وکیل عاصمہ جہانگیر نے ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں ملک میں رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے لوگ بات کرنے سے ڈرتے ہیں اور اس صورت حال میں عوام کے بنیادی و انسانی حقوق کو اجاگر کرنے کے لیے یہ میثاق وضع کیا جائے گا۔

عاصمہ جہانگیر نے حال ہی میں اسلام آباد میں ایک سخت گیر موقف رکھنے والی مذہبی جماعت کی طرف سے دیئے گئے دھرنے اور بعد ازاں اسے جس طریقہ سے ختم کیا گیا اس معاملے کے مکمل تحقیقات کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا "پارلیمانی کمیٹی کے دائرہ کار کا تعین کیا جائے اور وہ دیکھے کہ فیض آباد کا دھرنا وہ کیسے یہاں آیا، وہ کون لوگ تھے وہ کیسے لائے گئے جب پولیس ان کو ہٹانے میں کامیاب ہورہی تھی تو اس وقت جو مزید لوگ آئے وہ کس جگہ سے آئے اور جو ضامن بنے وہ یہ بتائیں کہ کس طریقے سے ضامن بنے اور وہ کسی کے ضامن بنے۔"

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سیکڑوں کارکنان نے کاغذاتِ نامزدگی میں موجود ختمِ نبوت کے حلف نامے میں مبینہ تبدیلی کے خلاف فیض آباد کے مقام پرتین ہفتے تک دھرنا دیئے رکھا جسے ہٹانے کی ناکام کوشش کے دوران پولیس کی طرف سے کی گئی کارروائی میں متعدد افراد ہلاک اور دو سو کے لگ بھگ زخمی ہوگئے تھے۔ بعد ازاں فوج کی ثالثی میں یہ دھرنا ختم کر دیا گیا تھا۔

دھرنے کے خلاف پولیس آپریشن کا ایک منظر
دھرنے کے خلاف پولیس آپریشن کا ایک منظر

اس دھرنے کو ختم کرنے کے طریقہ کار پر سیاسی و سماجی حلقوں کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے بھی فوج کے کردار پر سوال اٹھایا گیا تھا۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا "یہاں پر مذہبی عدم برداشت میں اضافہ ہوا اور خاص طور پر جس طریقے سے اس فیض آباد دھرنا سے نمٹا گیا اور جس طرح ہر ایک نے اپنی صفائی دی اور اقرار نامے کیے میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ کون کتنا مسلمان ہے یہ نا تو کسی کو بتانے کی ضرورت ہے اور نا ہی کوئی یہ پوچھے حق رکھتا ہے۔"

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت اور سیاسی جماعتوں نے بھی اس صورت حال میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا ہے۔

فوج کی طرف سے سول اداروں میں مبینہ مداخلت سے متعلق اکثر بیانات سامنے آتے رہتے اور فوج کا موقف ہے کہ وہ آئین اور قانونی کے دائرہ کار میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے رہی۔ حکومت کا موقف ہے کہ فوج ریاست کا حصہ ہے اور آئین کے مطابق وہ سول انتظامیہ کی معاونت کی پابند ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG