رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تدارک کرے: بین الاقوامی تنظیم


ہیومن رائٹس واچ نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ’’سنجیدہ خلاف ورزیوں کا جلد‘‘ تدارک نا کرنے کی صورت میں جمہوریت کے حاصل کردہ ثمرات ضائع ہونے کے خدشات ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو ایک خط میں کہا ہے کہ مذہبی اقلیتوں پر حملے، بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نا ہونا ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔

تنظیم نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ’’سنجیدہ خلاف ورزیوں کا جلد‘‘ تدارک نا کرنے کی صورت میں جمہوریت کے حاصل کردہ ثمرات ضائع ہونے کے خدشات ہیں۔

تنظیم کے مطابق 2012 سے پاکستان بھر میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے 650 افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ لشکر جنھگوی جیسے سنی عسکریت پسند گروہ بلا خوف و خطر آزادی سے اپنی کارروائیاں کررہے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جہاں سیکورٹی اداروں کی طرف سے جبری گمشدگیوں کے واقعات جاری ہیں وہیں بلوچ قوم پرستوں اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے 2012 اور 2013 میں غیر بلوچ لوگوں پر حملوں میں بھی شدت آئی ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر سی پی کی سربراہ زہرہ یوسف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر کوئی علیحدگی پسند کارروائیوں یا دیگر غداری کے زمرے میں آنے والی کارروائی میں ملوث ہے تو اس کا حل قانون میں موجود ہے اسکے تحت کریں بجائے کسی کو اٹھا کر یا اغواء کرکے ان کی لاشوں کو اِدھر ادھر پھینک رہے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے حکومت کو علیحدگی پسند گروہوں سے مذاکرات کرتے ہوئے صوبے کے سیاسی اور اقتصادی مسائل پر بات چیت کرنی چاہیے۔

حال ہی میں کراچی میں پانچ مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔ شناخت کے بعد پتہ چلا کہ تین کا تعلق بلوچستان سے تھا اور ان میں سے ایک بلوچ صحافی عبدالرزاق تھے۔ زہرہ یوسف کے مطابق ریاست کی عمل داری کو چیلنج کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی ہی مسئلے کا حل ہے۔

سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے رکن فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے کی وجہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی ہے۔
’’پہلے انسانی حقوق کے واقعات انفرادی نوعیت کے ہوتے تھے مگر اب وہ دہشت گردی کی صورت اختیار کر چکے ہیں اور ہماری پولیس اور فوج اس کے لیے تیار ہی نہیں کی گئی۔ ہمارے یہاں انسداد دہشت گردی کی کوئی پالیسی ہی نہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے تحت بننے والی فورس یا ادارے کے دفاتر بلدیاتی سطح پر ہونے چاہئیں تاکہ عوام اور عوامی نمائندوں سے رابطے کے ساتھ موثر انداز میں شدت پسندی کے خلاف لڑا جا سکے۔

فروغ نسیم نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمیٹی کی بشیتر شفارشات پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا۔

حکومت بار ہا ملک میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری شدت پسندی کے تدارک کے لیے اپنے مصمم ارادے کا اظہار کر چکی ہے اور حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں اس مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت قومی سلامتی کی پالیسی کا جلد اعلان کرے گے اور ایک متفقہ لائحہ عمل کے لیے سیاسی قائدین کا اجلاس بھی بلایا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG