رسائی کے لنکس

پشاور: کئی ماہ گزرنے کے باوجود انسانی حقوق کے کارکن ادریس خٹک بدستور لاپتا


فائل فوٹو

خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک اور نیشنل پارٹی (این پی) کے سیکریٹری جنرل ادریس خٹک کو 13 نومبر 2019 کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا تاہم انہیں تاحال بازیاب نہیں کیا جا سکا ہے۔

ادریس خٹک کی بیٹی طالیہ خٹک نے ایک ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم عمران خان اور انسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے والد کی بازیابی میں مدد کی اپیل کی ہے۔ عید سے کچھ دن قبل جاری ہونے والی ویڈیو میں طالیہ خٹک نے کہا کہ ان کے والد ذیابیطس کے مریض ہیں جب کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر دوا کی ضرورت ہوتی ہے۔

ضلع نوشہرہ کے قصبے سیدو سے تعلق رکھنے والے ادریس خٹک گزشتہ سال 13 نومبر کو اس وقت پر اسرار طور پر غائب ہوگئے تھے جب وہ اسلام آباد سے واپس خیبر پختونخوا آ رہے تھے۔

ادریس خٹک کے قریبی ساتھی قیصر خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جب وہ صوابی انٹر چینج پہنچے تو سادہ لباس افراد ادریس خٹک کو ڈرائیور شاہ سوار سمیت لے گئے۔ بعد ازاں ان کے ڈرائیور کو اسلام آباد ٹول پلازہ پر چھوڑ دیا گیا اور اُنہیں گاڑی دے کر گھر جانے کا کہا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈرائیور شاہ سوار کی واپسی کے بعد صوابی کے قصبے چھوٹا لاہور پولیس تھانے میں مقدمہ درج کرنے کے لیے رجوع کیا گیا مگر پولیس نے مقدمہ درج نہیں۔ تاہم عدالتی حکم پر صوابی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔

قیصر خان نے بتایا کہ ادریس خٹک کے غائب ہونے کے بعد انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں سینئر وکیل لطیف آفریدی کے ذریعے ایک درخواست دائر کی ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کے سات مختلف اداروں سے جواب طلب کیا ہے مگر ابھی تک صرف دو اداروں نے پشاور ہائی کورٹ میں جواب جمع کرایا ہے۔

مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق 13 نومبر 2019 کو غائب ہونے کے بعد رات 11 بجے ادریس خٹک نے اپنے ہی موبائل فون کے ذریعے بیٹیوں شمائلہ خٹک اور طالیہ خٹک سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے بیٹیوں سے کہا تھا کہ ان کے پاس موبائل فون کا چارجر نہیں ہے لہذا آئندہ چند دن تک ان کا فون بند رہے گا۔ جب کہ 14 نومبر کو ادریس خٹک نے ایک دوست کو فون کرکے لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک بھیجنے کا کہا تھا۔

دستیاب معلومات کے مطابق ادریس خٹک گھر میں اکیلے رہتا تھا اس لیے اُنہوں نے دو آدمیوں کے ذریعے چھابیاں بھیج کر دوست کو فون کے ذریعے نشاندہی کرکے لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک وغیرہ اٹھانے اور ان دو آدمیوں کے حوالے کرنے کا کہا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک لے جانے کے اگلے دن شام کے وقت ڈرائیور شاہ سوار کو نامعلوم افراد نے اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب چھوڑا تھا اور ادریس خٹک کی کار ان کے حوالے کرکے اُنہیں سیدھا گھر جانے کی ہدایت کی تھی۔

نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر مختار باچا نے ادریس خٹک کے غائب ہونے اور طویل عرصے سے بازیاب نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ان کو ادریس خٹک کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اُنہوں نے تمام تر اُمیدیں پاکستان کی عدالتوں سے وابستہ کی ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کے سابق سربراہ اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے ادریس خٹک کے فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادریس خٹک ایک سوشل ایکٹویسٹ ہیں اگر ان کے خلاف کوئی الزام یا ثبوت ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کسی بھی شہری کو اٹھانا اور غائب کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اُنہوں نے سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے اداروں سے ادریس خٹک کی بازیابی میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر شہریوں کی جبری گمشدگی کے الزامات لگتے رہے ہیں تاہم ان اداروں اور حکومت کی جانب سے اس کی تردید کی جتی رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے لاپتا یا جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے خصوصی کمیشن بھی بنایا تھا۔ یہ کمیشن ابتدا میں کافی فعال رہا تاہم اب اس کے حوالے سے خبریں سامنے آنا بند ہو گئی ہیں۔

بشری علوم میں روس سے پی ایچ ڈی کرنے والے ادریس خٹک انسانی حقوق کے تحفظ کے بین الاقوامی تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں۔ ادریس خٹک خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی اضلاع میں پراسرار طور پر گمشدہ یا لاپتا افراد کے واقعات کے بارے میں رپورٹس بناتے رہے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی ان کے پراسرار طور پر غائب ہونے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔

ادریس خٹک کے اہلیہ کا پہلے ہی سے انتقال ہو چکا ہے جب کہ ان کی ایک بیٹی شادی شدہ ہیں اور دوسری انجیئنرنگ یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔

طالیہ خٹک نے حالیہ ویڈیو میں کہا تھا کہ ان کے والد چونکہ گھر پر نہیں ہیں لہذٰا وہ عید کے موقع پر اپنے گھر بھی نہیں جا سکتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG