رسائی کے لنکس

حسین نواز مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش


کمیٹی کی کارروائی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ہو رہی ہے

وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز اتوار کو اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے جو شریف خاندان کے بیرون ملک اثاثوں سے متعلق تحقیقات کر رہی ہے۔

اسلام آباد میں ٹیم سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ملاقات کے بعد حسین نواز میڈیا سے بات کیے بغیر ہی روانہ ہو گئے لیکن پیشی سے قبل ذرائع ابلاغ سے مختصر گفتگو میں حسین نواز نے بتایا تھا کہ انھیں ٹیم کی طرف سے کوئی سوالنامہ نہیں بھیجا گیا اور یہاں پیش ہونے کے لیے انھیں صرف 24 گھنٹے کا وقت دیا گیا۔

میڈیا کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں پر ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی مفروضے پر بات نہیں کریں گے اور اپنے وکیل کے ہمراہ ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے، لیکن "اگر انھوں (ٹیم) نے میرے وکیل کو روکا تو میں باہر آکر آپ کو بتاؤں گا۔"

پاناما پیپرز میں وزیراعظم کے بچوں کے غیر ملکی اثاثوں کے انکشافات کے معاملے پر دائر درخواستوں پر 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے اس کی مفصل تحقیقات ایک مشترکہ ٹیم سے کروانے کا حکم دیا تھا جسے 60 روز میں اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ کو پیش کرنی ہے۔

حسین نواز پہلے ہی ٹیم کے دو ارکان پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور اس بارے میں ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر کی گئی ہے جس کی سماعت عدالت عظمیٰ پیر کو کرے گی۔

تحقیقات کرنے والی ٹیم میں وفاقی تفتیشی ادارے "ایف آئی اے"، قومی احتساب بیورو "نیب"، اسٹیٹ بینک، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، فوج کی انٹیلی جنس ایجنسیوں "آئی ایس آئی" اور ملٹری انٹیلی جنس "ایم آئی" کے ایک، ایک عہدیدار شامل ہیں۔

حسین نواز اسٹیٹ بینک اور سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے عہدیداروں کی غیر جانبداری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

ماہر قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضیٰ تحفظات کے باوجود وزیراعظم کے بیٹے کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیشی کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "ایک معاملے کو آگے چلنا چاہیے بجائے اس کہ اعتراضات ہوں اور اعتراض در اعتراض ہو معاملے کو آگے چلنا چاہیے تاکہ سچ تک پہنچا جائے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG