رسائی کے لنکس

دہشت گردوں سے تعلق کا الزام، حکومتی ارکانِ اسمبلی کا واک آوٹ


گزشتہ دنوں نجی چینل اے آر وائی پر انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کا ایک مبینہ خط سامنے آیا تھا جس میں بعض ارکان پارلیمنٹ کے کالعدم تنظیموں سے رابطوں کا دعویٰ کیا گیا تھا

پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکومت کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب ایک وفاقی وزیر سمیت بیس سے زائد حکومتی ارکان اسمبلی نے حکومتی رویہ کے خلاف واک آؤٹ کردیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آئی بی کے مبینہ خط میں ارکان پارلیمنٹ کا تعلق دہشت گردوں سے جوڑنے کے معاملے پر وفاقی وزیر ریاض پیر زادہ اپنی ہی حکومت پر برس پڑے اور ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کردیا۔

ریاض پیرزادہ نے سخت غصہ کے عالم میں اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں دہشت گرد ہوں تو وزیر کیوں ہوں؟

گزشتہ دنوں نجی چینل اے آر وائی پر انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کا ایک مبینہ خط سامنے آیا تھا جس میں بعض ارکان پارلیمنٹ کے کالعدم تنظیموں سے رابطوں کا دعویٰ کیا گیا تھا جب کہ حکومت کی جانب سے اس خط اور نجی ٹی وی پروگرام پر مقدمہ درج کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر ریاض پیر زادہ نے اس معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دہشت گرد بنا دیا گیا، ہمارا ایک معزز گھرانا ہے، میں دہشت گرد ہوں تو پھر مجھے وزیر کیوں بنایا گیا۔؟

ریاض پیر زادہ کے احتجاج پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ آپ عراق گئے ہوئے تھے، آپ کو شاید بتایا نہیں گیا کہ انٹیلی جنس بیورو نے اس خط پر پیمرا میں شکایت درج کی ہے کہ یہ جعلی دستاویز ہے، مناسب یہ تھا کہ آپ پہلے آئی بی سے بات کرلیتے۔ ریاض پیر زادہ نے کہا کہ "میں آئی بی پر یقین نہیں رکھتا، میں کوئی بچہ نہیں ہوں سیاست میں 50 سال گزر گئے ہیں۔"

جس پر ایاز صادق نے کہا کہ پیرزادہ صاحب آپ کی بات سن لی، ایوان میں اس وقت ایک حساس معاملہ زیر بحث ہے، آپ صبح تشریف لائیں، میں ڈی جی آئی بی کو بلا لوں گا۔

وفاقی وزیر اسپیکر کے سمجھانے پر بھی ناراض رہے اور کہا کہ ہمارے سروں پر بزرگوں کی پگڑیاں ہیں، کیا ہم اپنے بچوں کو پیغام دیں گے کہ میں دہشت گرد ہوں، ہماری اس طرح تذلیل نہیں کی جانی چاہیے، ہم اسلام اور عوام کے خدمت گزار ہیں، کیا ہماری تذلیل ہوگی؟ جب میں پارلیمنٹ سے جاؤں تو مجھ پر الزام ہو کہ میں دہشت گرد ہوں، مجھے اپنے کردار اور خاندان پر فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس سے خط بھیجا گیا ہے یا نہیں اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں، خط میں تصدیق کی جانی چاہیے کہ اگر یہ وزیراعظم ہاؤس سے گیا تو کس انفارمیشن کے تحت گیا۔

ریاض پیرزادہ نے کہا کہ ہم جن کے حاشیہ بردار اور خوشامدی ہیں، ان کے کارناموں کو معجزے بنا کر پیش کرتے ہیں انہوں نے رپورٹ پڑھ کر انکوائری کیوں نہیں کی۔ "میں اپنی بے عزتی براداشت نہیں کرسکتا، بطور وفاقی وزیر ایوان سے واک آؤٹ کرتا ہوں۔"

ریاض پیرزادہ اور اس خط میں شامل دیگر ارکان نے واک آؤٹ کیا، جس پر وزیرِ دفاع خرم دستگیر اور طارق فضل چودھری انہیں منانے گئے اور ان کے منانے پر ریاض پیرزادہ اور دیگر ارکان واپس آگئے۔

نجی چینل پر چند روز قبل ایک خط دکھایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس نے 37 ارکان اسمبلی کے حوالے سے آئی بی کو خط لکھا ہے جن پر نظر رکھنے کے لیے کہا گیا ہے، ان ارکان اسمبلی پر دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا الزام عائد کیا گیا تھا تاہم انٹیلی جنس بیورو کے ترجمان نے ایسے کسی بھی خط کے وجود سے انکار کیا اور اس نجی چینل کے خلاف پیمرا میں درخواست بھجوا دی ہے جبکہ نجی چینل کے خلاف مقدمہ کا اندراج زیرغور ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG