رسائی کے لنکس

logo-print

نقل مکانی کرنے والوں کے جانوروں کو خوراک و ویکسین کی ضرورت


عالمی ادارہ خوراک و زراعت "ایف اے او" نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ جانور بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں اور ان کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ان سے بیماریاں مقامی آبادی کے جانوروں میں بھی منتقل ہو سکتی ہیں۔

شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے لاکھوں لوگ تو شدید گرم موسم اور مشکل حالات میں خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کے ساتھ لائے گئے لگ بھگ تین لاکھ چھوٹے بڑے جانوروں کے لیے بھی صورتحال کچھ موافق دکھائی نہیں دیتی۔

ایک اندازے کے مطابق شمالی وزیرستان کے 70 فیصد خاندانوں کا ذریعہ معاش کسی نہ کسی طرح سے مال مویشی سے وابستہ ہے اور بے سروسامانی میں نقل مکانی کرتے وقت ان کے جانور ہی ان کے لیے گزراوقات کا ایک سہارا ثابت ہوسکتے تھے۔

عالمی ادارہ خوراک و زراعت "ایف اے او" نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ جانور بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں اور ان کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ان سے بیماریاں مقامی آبادی کے جانوروں میں بھی منتقل ہو سکتی ہیں۔

ایف اے او کے پاکستان میں ایک عہدیدار نصر حیات نے وائس آف امریکہ کو بتایا۔

" متاثرین اپنے ساتھ جو جانور لائے ہیں وہ سفر، گرمی اور خوراک کی کمی کی وجہ سے بہت کمزور ہو چکے ہیں۔ ان جانوروں کو خوراک، پانی اور شلٹر کی فوری ضرورت ہے اور ہم اس کے لیے ایک پروگرام تیار کر رہے ہیں۔‘‘

نقل مکانی کر کے آنے والوں کے ساتھ یہ جانور بنوں، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ٹانک اور کوہاٹ کے علاقوں میں موجود ہیں۔ ان جانوروں کے لیے ایک لاکھ ویکسین صوبائی حکومت کے متعلقہ محکمے کو دی گئی ہے۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ان جانوروں کی بیماری یا موت کی صورت میں اگر بے گھر افراد ان سے محروم ہوتے ہیں تو ان خاندانوں کا امداد پر انحصار مزید بڑھ جائے گا جس سے پہلے سے موجود مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماضی میں ہونے والی نقل مکانی کے دوران بھی یہ دیکھنے میں آچکا ہے کہ اندرون ملک بے گھر افراد کے ساتھ آنے والے جانور اکثر عدم توجہ یا خوراک کی کمی کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے رہے ہیں جب کہ بعض مرتبہ بیماریوں میں مبتلا ہونے والے جانوروں کو اونے پونے فروخت کردیا جاتا رہا جن کے گوشت سے لوگوں کو بھی صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG