رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی کے لیے 162 ارب روپے کا پیکج، سندھ حکومت پر تنقید


(فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کراچی شہر کے لئے 162 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا ہے جس میں 18 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔

ہفتے کو وزیراعظم سندھ کے دورے کے پہلے مرحلے میں کراچی پہنچے جہاں گورنر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں انھوں نے کراچی ٹرانسفارمیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس میں پبلک ٹرانسپورٹ، سیوریج، پانی سمیت دیگر اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی۔

عمران خان نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد سے اختیارات صوبوں کو تفویض ہیں۔ کراچی حکومت سندھ کے زیر انتظام آتا ہے لیکن اس کے باوجود اس شہر کے جو حالات پچھلے دس برسوں میں ہوئے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی پورے پاکستان کی ترقی ہے اور بڑا شہر ہونے کے سبب یہاں کے مسائل بھی زیادہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وفاق پبلک پارٹنر شپ کو شامل کرتے ہوئے 162 ارب روپے کا پیکج دے رہی ہے جو اس کی ترقی پر لگے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس پیکج میں ٹرانسپورٹ کے دس، سیوریج کے سات پراجیکٹس شامل ہیں۔

وزیراعظم نے کراچی میں پانی کے مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں پانی کی قلت ہے لیکن پانی کی بچت کی بھی موثر مہم شروع کی جائے گی کیونکہ کراچی کو مزید پانی دینے والا کے فور منصوبہ مسائل سے دوچار ہے جب تک وہ حل نہیں ہو جاتا تب تک شہریوں میں پانی کو بچانے کا شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

کراچی کے ماسٹر پلان کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کراچی شہر بہت تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ اب یہ شہر کنکریٹ کا جنگل لگنے لگا ہے، ہریالی ختم ہو چکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شہر کا ماسٹر پلان تیار کرنا ہو گا ورنہ اگلے ڈھائی برسوں میں یہ شہر کہاں سے کہاں تک پہنچ جائے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم جلد ہی سندھ میں ہیلتھ کارڈ کا اعلان کریں گے جس سے غریب اور ضرورت مند اپنا علاج باآسانی کروا سکیں گے۔

’کرپشن بچانے کے لیے ٹرین مارچ کیا‘

وزیر اعظم کراچی کے بعد سندھ کے شہر گھوٹکی روانہ ہوئے جہاں جلسہ عام سے خطاب کے دوران انھوں نے پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اربوں روپے کی کرپشن کے بچانے کے لئے ٹرین مارچ شروع کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے جب سے کرپشن کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے تو یہ سب کہتے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے۔ ٹرین مارچ چوری بچانے کے لئے کیا گیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو اٹھارویں ترمیم کے بعد سے ڈھائی ہزار ارب روپے چلے جاتے ہیں اور ترقی کا پیسہ صوبائی حکومت کے پاس ہے اس کے باوجود عوام کی حالت تبدیل نہیں ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ سندھ کی 70 فیصد گیس گھوٹکی سے نکلتی ہے اور پچھلے دس برسوں میں گیس کی رائلٹی کی مد میں سندھ حکومت کو 234 ارب روپے ملے۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ سوال عوام کو کرنا چاہیئے کہ ہمارے علاقے کا حصہ کہاں گیا؟

جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اب سندھ آتے رہیں گے اور اس لئے نہیں کہ وہ ووٹ لیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام صوبے ترقی کریں اور آگے بڑھیں اسی میں ہماری ترقی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم اس صوبے میں ہونے والی نا انصافی، کسانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور جعلی ایف آئی آر کاٹنے کے ظلم کو ختم کریں گے۔

پیپلز پارٹی کا ردعمل

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ’سلیکٹیڈ‘ حکومت صوبوں سے اُن کا حق چھیننا چاہتی ہے۔

لاڑکانہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اٹھارہویں ترمیم کو ختم نہیں کرنے دی گی۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان نیب کے ذریعے سیاسی انجیئرنگ کر رہے ہیں اور اُن کی سیاست نیب سے شروع ہو کر نیب پر ہی ختم ہو رہی ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ خان صاحب کی حکومت کو چلانے میں نیب کا اہم کردار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG