رسائی کے لنکس

عمران خان کا ایک مرتبہ پھر قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ


پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کو دہرایا ہے۔

اُنھوں نے جمعے کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ٹوئیٹر‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ بڑھتے ہوئے معاشی بحران اور اُن کے بقول مفلوج حکومت کے باعث پاکستان کو قبل از وقت انتخابات کی ضرورت ہے تاکہ جمہوریت محفوظ اور مضبوط کیا جا سکے۔

اس سے قبل بھی عمران خان نے ایسا ہی مطالبہ ستمبر کے مہینے میں بھی کیا تھا لیکن نہ صرف حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی۔

واضح رہے کہ موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی معاشی صورت حال بہتر ہے اور موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔

قبل از وقت انتخاب کے مطالبے پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کہتے ہیں کہ انتخابات وقت سے پہلے کرانے کا مطالبہ وہ کر رہے ہیں جنہوں نے خیبر پختوںخواہ میں اُن کے بقول کچھ نہیں کیا۔

’’انھوں نے قوم کا وقت ضائع کیا ہے دھرنوں میں ۔۔۔۔ اگر کے پی کے میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نہ صرف اس طرح کے ہسپتال بن رہے ہوتے، نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ بن رہی ہوتی، نہ صرف جعلی ادوایات کا خاتمہ کیا جا رہا ہوتا، ڈینگی کو قابو میں لایا جا رہا ہوتا۔‘‘

دریں اثنا پاکستان کی عدالت عظمٰی نے عمران خان کی طرف سے الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواست پر اعتراضات لگا اُسے واپس کر دیا اور کہا کہ اس بارے میں متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے اپنی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت عظمٰی کی طرف سے نا اہل قرار دیئے جانے کے بعد اُنھیں اپنی جماعت کی صدارت بھی چھوڑنی پڑی۔

لیکن عمران کی درخواست کے مطابق ایکٹ 2017 میں ایسی ترمیم کی گئی جس کے بعد نواز شریف دوبارہ اپنی جماعت کے صدر بن گئے۔

عمران خان کی طرف سے دائر درخواست میں الیکشن ایکٹکی شق 9، 10 اور 203 کو کالعدم قراردینے کی بھی استدعا کی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG