رسائی کے لنکس

logo-print

'عدالتی فیصلے کا دفاع جرات مندانہ قدم تھا'


فائل فوٹو

عمران خان کے خطاب پر ڈاکٹر وائن بام کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک مدبر سیاسی لیڈر ہونے کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ چاہے اسے پسند کرتے ہیں یا نہیں، یہ قانون ہے، اور اسی طریقے سے عدالتی فیصلے ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کے مقدمے میں ایک مسیحی خاتون کو بری کئے جانے اور اس معاملے پر پاکستان میں بعض عناصر کی جانب سے جاری سخت رد عمل کے جواب میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں جو انداز اختیار کیا، اسے بعض امریکی تجزیہ کار جرات مندانہ قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔

واشنگٹن کے تھنک ٹینک، مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ میں قائم پاکستان سینٹر کے سربراہ، ڈاکٹر مارون وائن بام کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی تعجب نہیں ہوا۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر سزا کو برقرار رکھا جاتا، تو پھر یہ سزائے موت پر منتج ہوتا۔ پاکستان کے لئے، عالمی سطح پر، اس کے بہت برے اثرات مرتب ہوتے۔ مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔

عالمی سطح پر انہی اثرات پر بات کرتے ہوئے، امریکی تھنک ٹینک ملکن انسٹی ٹیوٹ میں سینٹر فار ریجنل اکنامکس اینڈ کیلی فورنیا سینٹر کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر کیوِن کلاؤڈِن کہتے ہیں کہ سزا پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں، پاکستان کے لئے عالمی سطح پر بے یقینی پیدا ہوتی جو کہ حکومت کے لئے کسی طرح بھی فائدہ مند نہ ہوتی۔ اگر سزا برقرار رکھی جاتی یا بی بی کو جیل بھیج دیا جاتا، تو اس سے حکومت کے لئے بین الاقوامی سطح ایک انتشار پیدا ہوتا، جس کا برداشت کرنا اس کے لئے مشکل ہوتا، اور یہ تشویش کی بات ہوتی۔

عمران خان کے خطاب پر ڈاکٹر وائن بام کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک مدبر سیاسی لیڈر ہونے کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ چاہے اسے پسند کرتے ہیں یا نہیں، یہ قانون ہے، اور اسی طریقے سے عدالتی فیصلے ہوتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ پاکستان کے لئے ایک اچھا لمحہ ہے، جس میں اس کے ادارے غالب آئے ہیں۔

کیوِن کلاؤڈِن کہتے ہیں کہ یہ عمران خان کا ایک جرات مندانہ قدم تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک یہ ان کا بہت جرات مندانہ قدم ہے کہ انہوں نے براہ راست اس معاملے پر کھل کر بات کی۔ یہ حقیقت کہ انہوں نے سخت موقف رکھنے والوں کو للکارا، اور ایک جرات مندانہ سرکاری بیان ہے۔ اس سے عالمی سطح پر ان کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے، خاص کر امریکہ جیسے ملک معاملات طے کرتے ہوئے۔ ایک ایسی صورت حال میں اس بیان سے، امریکہ اور یورپ میں، وزیر اعظم کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ تاثر بھی ابھرا ہے کہ وہ اپنے بیانات پر عمل کرتے ہیں۔

ڈاکٹر وائن بام کہتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال میں اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر پاکستان کو سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ہٹ کر کہ یہاں پاکستان کا تاثر کیا ہوتا، یہ پاکستان کے لئے غلط موقع پر ایک معاشی دھچکہ ہوتا۔ خصوصي طور پر اس لئے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس، پاکستان کو بڑے قریب سے دیکھ رہی ہے۔ اور اگر شدت پسندوں کے خلاف نہ جایا جاتا، تو پاکستان کی جانب سے دنیا کو ایک غلط پیغام جاتا۔

کیون کلاؤڈن کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کے لئے زیادہ فکر کی بات ان کی پاکستان میں پوزیشن ہے، لیکن آج کے فیصلے اور پھر اس پر اٹھنے والے ہنگاموں پر، ان کی تقریر سے دنیا کو یہ تاثر ملا ہے کہ وہ شاید شدت پسندوں کے لئے کوئی زیادہ نرم گو شہ نہیں رکھتے ، ان سے بات چیت ہو سکتی ہے، اور اعلیٰ عدالتیں دھونس میں نہیں آئیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG