رسائی کے لنکس

logo-print

انڈر ۔ 19 ورلڈ کپ سیمی فائنل میں پاکستان بھارت ٹاکرا آج


پاکستان اور بھارت کے شائقین دونوں ملکوں کے پرچم لئے میدان میں۔ فائل فوٹو

پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جب بھی مقابلہ ہوتا ہے تو یہ جوش و خروش، تناؤ، جذبات، جیت کی توقعات اور غیر معمولی دلچسپی سے بھرپور ہوتا ہے۔ میچ سے کئی روز قبل ہی تمام کی تمام ٹکٹیں فروخت ہو جاتی ہیں اور اسٹیڈیم شائقین سے کھچاکھچ بھرا ہوتا ہے۔ یوں یہ ایک دلفریب اور غیر معمولی منظر پیش کرتا ہے۔

آج انڈر۔19 عالمی کپ کے سیمی فائنل میں بھی اگرچہ یہ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں، تاہم ان میں وہ روایتی جوش و خروش دکھائی نہیں دے رہا۔ تاہم پھر بھی نیوزی لینڈ کے شہر کرائیسٹ چرچ میں ہیگلی اوول گراؤنڈ پر کھیلا جانے والا یہ میچ شائقین کرکٹ کیلئے غیر معمولی دلچسپی سے کسی طرح کم نہیں ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان انڈر۔19 کی سطح پر کوئی میچ گزشتہ تین برس سے نہیں کھیلا گیا ہے۔ لہذا دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو ایک دوسرےکی مہارت اور کمزوریوں کا صحیح طریقے سے اندازہ نہیں ہے۔

بھارتی ٹیم کے کوچ راہول ڈریوڈ کا کہنا ہے کہ اُن کیلئے اس میچ کی اہمیت جیت یا ہار سے قطع نظر اس حوالے سے ہے کہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان بالآخر یہ میچ کھیلا جا رہا ہے جس سے نوجوان کرکٹرز کو اس بات کا اندازہ ہو گا کہ بھارت اور پاکستان کے میچ کا دباؤ کیسا ہوتا ہے اور وہ اس سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں۔

ڈریوڈ، جو اپنے زمانے کے انتہائی منجھے ہوئے بلے باز تھے، کہتے ہیں کہ شاید بھارت اور پاکستان کے ان نوجوان کرکٹرز میں سے کچھ تجربہ حاصل کر کے مستقبل میں اپنی اپنی قومی ٹیم کی حصہ بن سکیں۔

دوسری جانب پاکستانی ٹیم کے منیجر ندیم خان ہیں جو اس سے قبل پاکستان کی سینئر ٹیم کی منیجمنٹ کا حصہ رہتے ہوئے پاکستان بھارت میچ کی کیفیت کو بخوبی جانتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ان نوجوان کھلاڑیوں کے جذبات کو مناسب حد سے آگے نہیں بڑھنے دینا چاہئیے کیونکہ ابھی اُنہیں تجربہ حاصل کر کے اپنے کھیل میں نکھار پیدا کرنا ہے۔

تاہم آج کھیلے جانے والے میچ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اپنے جذبات قابو میں رکھ پائیں گے یا نہیں، یہ میچ کے دوران ہی معلوم ہو سکے گا۔

ندیم خان البتہ اپنی ٹیم کی کارکردگی سے بہت پُر اُمید ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز نے ابتدائی میچ میں افغانستان کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد جس طرح اپنی کارکردگی کو بہتر بنایا ہے، وہ بہت خوش آئیند ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شاہین آفریدی سمیت اس ٹیم کے تینوں تیز بالر اور کم از کم دو بلے باز فرسٹ کلاس کرکٹ کیلئے تیار ہیں۔ ندیم خان اس بات کے حامی نہیں ہیں کہ انڈر۔19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو براہ راست بین الاقوامی کرکٹ میں جھونک دیا جائے۔ اس کیلئے اُنہیں پہلے تجربہ حاصل کرتے ہوئے محنت کرنا ہو گی۔

پاکستان کی انڈر۔19 ٹیم دو مرتبہ عالمی کپ کی فاتح رہ چکی ہے۔ آج کھیلے جانے والے سیمی فائنل میں فتح حاصل کرنے والی ٹیم 3 فروری کو آسٹریلیا سے ٹکرائے گی جو 28 جنوری کو کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میں افغانستان کو شکست دے کر فائنل میں پہنچ چکی ہے۔

بھارت کے خلاف اس سیمی فائنل کیلئے پاکستان کی حتمی لائن اپ ان کھلاڑیوں سے منتخب ہو گی:

محمد علی خان، علی زریاب آصف، عماد عالم، ارشد اقبال، حسن خان (کپتان)، عمران شاہ، محمد طاحہ، محمد محسن خان، محمد موسیٰ، محمد زید عالم، منیر ریاض، روحیل نذیر (وکٹ کیپر)، سعد خان، شاہین شاہ آفریدی اور سلیمان شفقت۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG