رسائی کے لنکس

ایف اے ٹی ایف سے پاکستان مخالف بھارتی مہم کا نوٹس لینے کا مطالبہ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا یکم اکتوبر کا بیان مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کی مالی اعانت پر ایف اے ٹی ایف پاکستان کو کسی بھی وقت اپنی بلیک لسٹ میں شامل کر سکتا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے ایف اے ٹی ایف کی کارروائی کو سیاست کی نذر کرنے کی کوشش رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت بھارت ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک جوائنٹ گروپ کا چیئرمین ہے جو ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے تحت پاکستان کی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔ جس کی وجہ سے بھارتی وزیر دفاع کے بلیک لسٹ سے متعلق بیان پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ہم اپنے تحفظات پہلے ہی ایف اے ٹی ایف کے ارکان کے نوٹس میں لا چکے ہیں۔ اور ہمیں توقع ہے کہ ایف اے ٹی ایف بھارت کی جانب سے پاکستان کو رسوا اور بدنام کرنے کی مسلسل کوشش کا نوٹس لے گا۔

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ اس کی کارروائی شفاف اور غیر جانب دارانہ ہو گی۔

پاکستان کی وزرات خارجہ کا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب تقریباً ایک ہفتے کے بعد 13 اور 18 اکتوبر کے دوران ایف اے ٹی ایف اپنے پیرس کے اجلاس میں یہ تعین کرے گا کہ آیا پاکستان کا نام اس کی گرے لسٹ میں موجود رہے یا اسے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے، یا پھر اسے کلیئر قرار دے دیا جائے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے دہشت گردوں کی مالی وسائل تک رسائی روکنے اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں اور کئی ملزموں کو عدالتوں سے سزائیں دلوائی ہیں۔

اس سے قبل الجزیرہ ٹیلی وژن کے ساتھ اپنے انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نئی دہلی پر یہ الزام لگا چکے ہیں کہ وہ پاکستان کو دیوالیہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کے لیے وہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ڈلوانا چاہتا ہے۔

XS
SM
MD
LG