رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور بھارت کی سرحد پر فائرنگ، کم ازکم آٹھ افراد ہلاک


دونوں جانب سے ایک دوسرے پر اس سے قبل بھی فائرنگ بندی کی خلاف ورزی میں پہل کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

پاکستان کی فوج نے کہا ہے کہ سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر بلااشتعال فائرنگ کی جس سے اس کے چار شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پیر کی صبح ورکنگ باؤنڈری پر سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ سے دو بچوں اور ایک خاتون سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔

پاکستانی رینجرز نے اس کارروائی کے بعد جوابی فائرنگ بھی کی۔

مزید برآں بیان کے مطابق متنازع علاقے کشمیر کو منقسم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر نکیال، کوٹ کیرتا، تتہ پانی اور جند روٹ سیکٹر پر بھی بھارت کی جانب سے فائربندی کی خلاف ورزی کی گئی۔

ادھر بھارت نے بھی کہا ہے کہ اس کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے پار سے پاکستانی فورسز کی فائرنگ اس کے چار شہری ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے ہیں۔

بھارتی فورسز نے دعویٰ کیا کہ اس کے کئی دیہاتوں میں پاکستانی فورسز کی طرف سے گولے بھی پھینکے گئے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے پیر کو ایک بیان میں بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزی پر سفارتی ذرائع سے بھارت سے شدید احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا۔

بیان کے مطابق یکم اکتوبر سے روزانہ سرحد پر بھارت کی جانب سے فائر بندی کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

دونوں جانب سے ایک دوسرے پر اس سے قبل بھی فائر بندی کی خلاف ورزی میں پہل کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے کے واقعات میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کی سیاسی قیادت تعلقات میں بہتری کا عندیہ تو دے چکی ہے لیکن اس پر کوئی ٹھوس پیش رفت تاحال دکھائی نہیں دیتی۔

پاکستان کے وزیراعظم یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات کا بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔

گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا بھی کہنا تھا کہ وہ بھی پاکستان کے ساتھ امن سے متعلق بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے بقول اس کے لیے "مناسب ماحول" کا ہونا بھی اشد ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG