رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی طرف سے بھارتی کشمیر میں پرتشدد کارروائیوں کی مذمت


پاکستان کی طرف سے بھارتی کشمیر میں پرتشدد کارروائیوں کی مذمت

پاکستان نے بھارتی کشمیر میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے اور کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

منگل کو دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ پر تشدد کارروائیوں کے بجائے ضبط کا مظاہرہ کرے۔

وزیر خارجہ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے بقول لیت و لعل کا مظاہرہ نہ کرے بلکہ کشمیر کے دیرینہ تنازعے کا حل تلاش کرنے کے لیے کام کرے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہواور کشمیریوں کی خواہشات کی ترجمانی کرتا ہو۔

بیان میں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے حق خود ارادیت کے حصول میں اپنی بھرپور سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

اُدھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق نے بھارتی کشمیر کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں نافذ طویل کرفیو، تجارتی, تعلیمی مراکز اور دفاتر کی بندش سے لوگوں کو اپنی ضروریات زندگی کے حصول سمیت کئی مشکلات کا سامنا ہے۔

منگل کو دارالحکومت میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار عتیق نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں امریکہ، یورپ اور اسلامی ممالک کے علاوہ دوسرے اہم ملکوں کے سفیروں کو خطوط لکھ رہے ہیں جس میں انھیں صورت حال کی سنگینی کے علاوہ اپنے موقف سے بھی آگاہ کر رہے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پیر کو پولیس اور نیم فوجی دستوں نے بھارت مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے فائرنگ کی جس میں ایک پولیس اہلکارسمیت کم از کم چودہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا اور کئی سرکاری عمارتوں اور گاڑیوں کو نذرآتش بھی کیا.

علیحدگی پسند کشمیری رہنما سید علی گیلانی میر واعظ عمر فاروق اور آغا سعید حسن نے لوگوں سے پر امن رہنے کی اپپل کی ہے۔

بھارتی حکومت نے بھی اپنے زیر انتظام کشمیر میں تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے اور امن پسند کشمیری گروپوں کے ساتھ بات چیت کی اپنی پیشکش کو دہرایا ہے۔

XS
SM
MD
LG