رسائی کے لنکس

لائن آف کنٹرول پر فائرنگ، کم عمر لڑکی ہلاک


پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے آٹھ سالہ بچی ہلاک ہو گئی۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر سے جاری ایک مختصر بیان میں اس واقعہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب چری کوٹ سیکٹر میں بھارتی فوج نے سویلین آبادی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجہ میں پولاس گاؤں کی آٹھ سالہ بچی ہلاک ہو گئی۔

بیان کے مطابق کم عمر لڑکی اپنے گھر میں عید کی خوشیاں منا رہی تھی کہ لائن آف کنٹرول کے پار سے ہونے والی فائرنگ کی زد میں آ گئی۔

اس سے قبل رواں ہفتے کے آغاز پر پاکستان کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی عارضی حد بندی یعنی ’لائن آف کنٹرول‘ کے قریب کوٹیرہ سیکٹر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک شخص محمد راشد ہلاک ہو گیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو وزارت خارجہ طلب کر کے اس معاملے پر احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق 2017 میں اب تک بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر 700 سے زائد مرتبہ دو طرفہ فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی، جس کے نتیجے میں 29 عام شہری ہلاک جب کہ 175زخمی ہوئے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق دانستہ طور پر عام شہریوں کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بین الااقوامی قوانین کے منافی ہے۔

بھارت کی طرف سے پاکستان پر ایسے ہی الزامات لگائے جاتے رہے ہیں کہ پاکستانی فورسز بھی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شہری اہداف کو نشانہ بناتی ہیں، تاہم پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

ایل اوسی پر 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے سیز فائر کے معاہدے پر دستخط کے باوجود دونوں اطراف سے فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے واقعات ہوتے ہیں اور دونوں پڑوسی ممالک ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG