رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت سے مذاکرات سے قبل کشمیری رہنماؤں سے مشورہ کروں گا: وزیراعظم


وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ تمام تصفیہ طلب معاملات کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیئے نہ کہ بزور طاقت۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کے مذاکراتی حل کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھارت کو بات چیت کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

جمعرات کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تمام تصفیہ طلب معاملات کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیئے نہ کہ بزور طاقت۔

انھوں نے کہا کہ خطے میں امن کا قیام اقتصادی خوشحالی کے بغیر ممکن نہیں اور اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرے۔

"خطے میں معاشری خوشحالی کا انحصار امن کے قیام پر ہے اور اقوام متحدہ کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔"

کشمیر کا علاقہ شروع ہی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع چلا آرہا ہے اور حالیہ مہینوں میں اس علاقے کو تقسیم کرنے والی عارضی حدبندی لائن پر دونوں اطراف سے فائرنگ کے تبادلوں کی وجہ سے ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان تعلقات میں تناؤ دیکھا جارہا ہے۔

رواں سال نریندر مودی کے بھارتی وزیراعظم بننے کے بعد دونوں ملکوں کی طرف سے تعلقات میں بہتری کی کوششیں شروع کرنے کے اشارے ملے تھے لیکن اگست میں بھارت نے یہ کہہ کر اسلام آباد میں ہونے والے خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات منسوخ کر دیے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر نے بھارتی کشمیر کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور یہ اقدام دو طرفہ تعلقات کے لیے سازگار نہیں۔

پاکستان نے مذاکرات کی منسوخی کے بھارتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی ملاقاتیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور کسی دوسرے ملک میں مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں سے سفارتکاروں کی ملاقات کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

تاہم جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت سے مذاکرات سے قبل اب بھی کشمیری رہنماؤں سے مشاورت کریں گے۔

"میں نے بھارت کے ساتھ مذاکرات سے پہلے کشمیری رہنماؤں سے مشورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

بھارتی عہدیداروں کی طرف سے حالیہ دنوں میں ایسے بیانات بھی سامنے آئے ہیں کہ دہشت گرد پاکستان کی سرزمین بھارت کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، لیکن پاکستانی حکام اس کی تردید کر چکے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر ان بیانات کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیا۔

"ہمارے خلاف بھارت کا یہ پروپیگنڈا کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے درحقیقت اس کے اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے، ہم خود دہشت گردی کا اور دہشت گردوں کا خاتمہ کر رہے ہیں۔"

بھارت کی طرف سے پاکستانی وزیراعظم کے اس بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

نواز شریف نے یہ بات ایک ایسے موقع پر کہی ہے جب آئندہ ہفتے وہ جنوب ایشیائی ممالک کی تنظیم "سارک" کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیپال جارہے ہیں۔ اس موقع پر نریندر مودی بھی موجود ہوں کے لیکن تاحال اس بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا کہ دونوں وزرائے اعظم کی علیحدہ سے بھی کوئی ملاقات طے ہے یا نہیں۔

XS
SM
MD
LG