رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت اور پاکستان میں ایک دوسرے کے ہائی کمشنروں کی وزارت خارجہ میں طلبی


بھارت نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو مجوزہ کشمیر کانفرنس سے متعلق تفصیلات سے باخبر کرنے کے لیے فون کرنے پر سخت اعتراض کیا ہے اور بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کو طلب کر کے اسے بھارت کے اندرونی امور میں پاکستان کی براہ راست مداخلت قرار دیا ہے۔ پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے اعتراض کو مسترد کر دیا ہے۔

بھارت کے سیکرٹری خارجہ وجے گوکھلے نے سہیل محمود سے کہا کہ پاکستان کا یہ اقدام بھارت کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے اور اس کے اقتدار اعلیٰ کی خلاف ورزی کی کوشش ہے، جو کہ ناقابل قبول ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق، 30 جنوری کی شام دیر گئے پاکستانی ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا۔ اس کے بعد ایک بیان جاری کر کے کہا گیا کہ پاکستان کی اس کوشش سے صورت حال اور پیچیدہ ہو جائے گی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے منگل کے روز عمر فاروق کو فون کر کے فروری کے پہلے ہفتے میں برطانوی پارلیمنٹ میں منعقد ہونے والی کشمیر کانفرنس کی تفصیلات بتائی تھیں۔

بھارت کے سیکرٹری خارجہ نے پاکستانی ہائی کمشنر سے کہا کہ ”نئی دہلی کو یہ امید ہے کہ پاکستان ایسے اقدامات سے باز آ جائے گا“۔

انھوں نے بھارت کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ”جموں و کشمیر بھارت کا لازمی حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس معاملے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں“۔

پاکستان نے شاہ محمود قریشی کے ٹیلی فون سے متعلق بھارت کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے کشمیری عوام کی حق خود اختیاری کی جدو جہد کی حمایت جاری رکھنے کے اپنے عہد کا اعادہ کیا۔

پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ درانی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کی صبح پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر کو اپنے دفتر طلب کیا اور پاکستانی ہائی کمشنر کو بھارتی وزارت خارجہ میں طلب کیے جانے پر احتجاج کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کشمیر پر بھارت کے دعوے کو مسترد کر دیا اور اسے ایک متنازعہ علاقہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔

ان کے بقول ”بھارت کا یہ کہنا کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے، تو اس کا نہ تو کوئی قانونی جواز ہے اور نہ ہی اخلاقی۔ اقوام متحدہ کی قراردوں میں استصواب رائے کی بات کہی گئی ہے۔ بھارت اس کا بھی احترام نہیں کر رہا ہے۔ انھوں نے شملہ اور لاہور اعلانیہ میں بھی اسے تسلیم کیا تھا اب اس کو بھی نہیں مان رہے ہیں“۔

انھوں نے مزید کہا کہ ”بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج 2015 میں یہاں آئی تھیں تو اس وقت ہم لوگ مذاکرات کرنے جا رہے تھے اور اس میں کشمیر کا بھی مسئلہ تھا۔ تو اگر یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے تو پھر بات چیت کیوں کرنی ہے۔ ان کے حساب سے تو یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے تو پھر بات کیوں کر رہے تھے“۔

محمد فیصل نے مزید کہا کہ ”اگر بھارت کشمیری عوام پر ظلم کرتا رہے گا تو اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ اس سے قبل بھی پاکستانی وزراء اور عہدے دار کشمیری رہنماؤں سے ملتے رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے“۔

ایک سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر کمل مترا چنائے نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بھارت کے اعتراض کو بلا جواز قرار دیا اور مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کرنے پر زور دیا۔

ایک دوسرے تجزیہ کار، اجے کمار نے کہا کہ ”پاکستانی وزیر خارجہ کے فون کال پر ہمیں اعتراض ہے۔ لیکن ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ کشمیر کے علحیدگی پسند رہنما کیا جواب دیتے ہیں“۔

انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ”کشمیری رہنماؤں کو بھارت کے آئین کے دائرے میں رہ کر بات اور اقدامات کرنے کی آزادی ہے۔ لیکن، ہم یہ بھی چاہیں گے کہ وہ پاکستان کی سازشوں کے شکار نہ بنیں“۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG