رسائی کے لنکس

logo-print

شاہ محمود قریشی کی میر واعظ عمر کو فون کال پر بھارت برہم


کشیمری رہنما میر واعظ عمر فاروق اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

بھارت نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں کے ایک اتحاد حریت کانفرنس کے سربراہ اور سرکردہ مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق کو فون کر کے انہیں اسلام آباد کی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کو عالمی سطح پر اُبھارنے کی کوششوں سے آگاہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

نئی دہلی میں حکومتی ذرائع نے اسے بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستانی قیادت کی جانب سے بھارت کے ساتھ تعلقات پر دوغلے پن کا اظہار ہوتا ہے۔ اور بھارت کے عوام اُن تمام ’مذموم عزائم‘ کو ناکام بنا دیں گے جو ملک میں انتشار اور دہشتگردی پر مبنی تشدد کو ہوا دینے کے لئے کئے جارہے ہیں۔

اگرچہ بھارتی حکومت نے اس سلسلے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن بھارتی ذرائع ابلاغ میں حکومتی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر نمایاں طور پر سامنے آئی ہے کہ نئی دہلی میں نریندر مودی کی حکومت نے پاکستانی وزیرِ خارجہ کی طرف سے کشمیری علحیدگی پسند لیڈر کو براہِ راست فون کرنے پر شدید خفگی کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت نے اس اقدام کو رجعت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی پاکستانی قیادت کے اُس مجموعی طرزِ فکر کے برعکس ہے جسے وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں سامنے لانے کی کوشش کرتا آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ’اس سے پاکستانی قیادت کی اپروچ میں دوغلے پن کی عکاسی ہوتی ہے‘۔

ذرائع نے مزید بتایا، "پاکستانی قیادت کے میڈیا کرتبوں کے ذریعے اس حقیقت سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی ہے کہ اسلام آباد کے ہاتھ بے قصور ہندوستانیوں کے خون سے رنگے ہیں جن میں (بھارتی) جموں و کشمیر اور ریاست کے اُس حصے کے لوگ بھی شامل ہیں جس پر اس نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے"۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے منگل کے روز میر واعظ عمر کو فون کر کے اُنہیں اس بات سے بھی آگاہ کیا تھا کہ پاکستان فروری کے پہلے ہفتے میں لندن میں برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں 'ہاؤس آف کامنز ' میں کشمیر پر ایک کانفرنس اور ایک نمائش کا اہتمام کر رہا ہے۔

پاکستان 1975 سے ہر سال 5 فروری کو کشمیریو ں کے ساتھ یکجہتی کا دن مناتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے میر واعظ عمر کو بتایا کہ اس سال نہ صرف پاکستان میں، بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں میں بھی اس سلسلے میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کر کے دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر اور بھارتی کنٹرول کے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی "بے دریغ پامالیوں" کی طرف مبذول کرائی جائے گی۔ تاہم لندن کی مجوزہ کشمیر کانفرنس اور نمائش اس سلسلے کی اہم کڑی ہو گی۔

میرواعظ عمر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے انہیں فون کر کے بھارتی کنٹرول کے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان مسلسل یہ کوشش کر رہا ہے کہ دنیا کو کشمیری عوام کی حالتِ زار کے بارے میں صحیح اطاعات مل سکیں۔ ’پاکستان 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر منارہا ہے‘، اس سلسلے میں انہوں نے مجھے اُس پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کیا جو پاکستان نے اس دن کی مناسبت سے ترتیب دیا ہے۔ جس میں لندن کے دارالعوام میں 4 اور 5 فروری کو ہونے والی کشمیر کانفرنس اور نمائش بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اس دن پاکستان مختلف ملکوں کے دارالحکومتوں میں کشمیر پر بیداری مہم کا آغاز کرے گا‘۔

میرواعظ عمر نے بتایا کہ پاکستانی وزیرِ خارجہ نے انہیں یقین دلایا کہ تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے اُن کا ملک اپنی کوششوں میں تیزی لائے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کشمیری عوام کی آواز دنیا کے ایوانوں تک پہنچ جائے۔

ایک سوال کے جواب میں میر واعظ عمر نے بتایا۔" بنیادی طور پر میں نے اُن نے یہ کہا کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے کا نہ صرف ایک فریق ہے بلکہ کشمیری عوام کا وکیل بھی ہے، لہٰذا اس کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ وہ کشمیریوں کو اُن کا بنیادی حق یعنی حقِ خود ارادیت دلانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرے۔ میں نے اُن پر زور دیا کہ پاکستان کشمیر پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنے میں پہل کرے، لیکن انہوں نے مجھے بتایا کہ چونکہ بھارت میں جلد ہی عام انتخابات ہونے ہی والے ہیں، اس لئے اس طرح کی بات چیت کا مستقبل قریب میں ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔"

تاہم پاکستانی وزیرِ خارجہ نے، جیسا کہ میرواعظ عمر نے بتایا، اُمید ظاہر کی کہ بھارت میں انتخابات کے بعد قائم ہونے والی نئی حکومت کے ساتھ مذاکرات کئے جا سکتے ہیں، جن میں کشمیر کے مسئلے کو فوقیت حاصل ہو گی۔

میر واعظ کا کہنا تھا کہ انہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ کشمیری عوام ،خاص طور پر کشمیری قیادت کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ شروع کیا جائے، لیکن ظاہر سی بات ہے کہ اس میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے پاس سفری دستاویزات نہیں ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے بھی انہوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا"۔

اس استفسار پر کہ اب وہ نئی دہلی سے کس طرح کے ردِ عمل اور اقدامات کی توقع رکھتے ہیں، میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارتی حکام ہٹ دھرمی کا راستہ ترک کر کے کشمیر کی حقیقت کو تسلیم کریں اور مسئلے کے پُرامن اور پائیدار حل کے لئے کشمیر ی عوام کے "حقیقی نمائندوں" اور پاکستان کے ساتھ سہ فریقی بات چیت شروع کریں۔

بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کا میر واعظ عمر کو فون کرنا جہاں ایک طرف کشمیری عوام کو یہ یقین دہائی کرانا ہے کہ عمران خان حکومت ان کے سیاسی مطالبات کی تائید کرتی ہے، وہیں خود اس کا مقصد پاکستان کے اندر اُن سیاسی جماعتوں اور قوتوں کا توڑ کرنا بھی ہے جو یہ کہتی ہیں کہ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور قیادت کشمیر کے بارے میں صرف زبانی جمع خرچ سے کام لے رہی ہے۔

بعض مقامی تجزیہ کار پاکستانی وزیرِ خارجہ کی طرف سے میر واعظ عمر کے ساتھ فون پر رابطے کو کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں سمجھتے اور نہ ان کے مطابق اس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورت حال میں کوئی بڑا فرق نہیں آئے گا۔

یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبہء سیاسیات کے سابق پروفیسر نور احمد بابا نے کہا۔" استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری قیادت کے ساتھ اس طرح کے رابطے صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں بھی رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ کشمیر اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے سلسلے میں پاکستان کی نئی حکومت کے پاس کچھ خیالات اور آراء ہیں جن پر وہ تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا،"شاہ محمود قریشی کی میر واعظ کو کئی گئی فون کال سے بھارت ضرور برافروختہ ہو گا لیکن اس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان مجموعی تعلقات پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔ بھارت میں عام انتخابات کے انعقاد کے بعد ہی اس محاذ پر کسی تبدیلی کی توقع کی جا سکتی ہے"۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG