رسائی کے لنکس

logo-print

کرتارپور راہداری فعال کرنے کے معاہدے پر دستخط


اس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان سکھ یاتریوں کی آمد و رفت کے طریقہ کار پر اتفاق ہو گیا ہے۔

پاکستان اور بھارت نے سکھ یاتریوں کے مقدس مذہبی مقام گوردوارہ کرتارپور صاحب تک رسائی کے لیے بننے والی راہداری کو فعال کرنے سے متعلق معاہدے کے مسودے پر دستخط کر دیے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے جمعرات کو دفترِ خارجہ کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے دستخط کیے جب کہ بھارت کی نمائندگی بھارتی وزارت امور خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ، ایس سی ایل داس نے کی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے معاہدے پر دستخط کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے تحت روزانہ پانچ ہزار تک سکھ یاتری پاکستان آ سکیں گے۔ البتہ، بھارت کو سکھ یاتریوں کی فہرست ان کی آمد سے 10 روز قبل دینی ہوگی، تاکہ مؤثر انتطامات کیے جا سکیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، کرتارپور راہداری کے افتتاح کی باضابطہ تقریب 9 نومبر کو ہوگی اور وزیرِ اعظم عمران خان اس منصوبے کا افتتاح کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری پر بھارت سے مذاکرات بہت مشکل تھے۔ وزیرِ اعظم عمران خان اس منصوبے پر بہت فعال رہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل کے بقول پاکستان نے کرتارپور راہداری کا منصوبہ قلیل مدت میں مکمل کیا ہے جب کہ بھارت کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط وزیرِ اعظم پاکستان کے وژن کے تحت کیے گئے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان بابا گرونانک کے گرودوارے کی زیارت کے لیے آنے والے سکھ یاتریوں کی آمد و رفت کے طریقہ کار، قیام اور دیگر امور پر اتفاق ہو گیا ہے۔

سکھ یاتریوں کی آمد و رفت صبح سے شام تک جاری رہا کرے گی جب کہ سروس چارجز کی مد میں یاتریوں سے 20 ڈالر فیس بھی وصول کی جائے گی۔

معاہدے کے تحت روزانہ پانچ ہزار تک یاتری بغیر ویزا گورودوارہ کرتارپور صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرسکیں گے۔ البتہ، سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورتِ حال میں انہیں یہ سہولت میسر نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ کرتارپور راہداری پاکستان کے ضلع نارووال کے سرحدی علاقے میں واقع ہے جہاں سکھوں کے مذہبی پیشوا بابا گرو نانک نے اپنے زندگی کے آخری سال گزارے تھے۔ اس راہداری منصوبے کا سنگ بنیاد گزشتہ سال رکھا گیا تھا۔

بھارت میں بھی تیاریاں مکمل

نئی دہلی میں وائس آف امریکہ کے نمائندے سہیل انجم کے مطابق، کرتارپور راہداری کے معاہدے پر دستخط کے بعد بھارت نے کہا ہے کہ راہداری کو فعال بنانے کے لیے فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے۔

بھارت کی وزارتِ داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری، سی ایل داس نے کہا ہے کہ ہر مذہب کے ہندوستانی یاتری اور بھارتی نژاد شہری کرتارپور راہداری استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول، اس کے لیے ویزا کی نہیں بلکہ صرف پاسپورٹ کی ضرورت ہو گی۔
سی ایل داس کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گوردوارے میں لنگر کے اہتمام اور پرساد کی تقسیم پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے تمام ضروری بنیادی ڈھانچہ بشمول سڑک اور مسافر خانے کی عمارت راہداری کے بر وقت افتتاح کے لیے تیار ہیں۔
بھارت کے مطابق، یاتریوں سے 20 ڈالر فیس لینے کے پاکستان کے فیصلے کے علاوہ راہداری سے متعلق تمام امور پر دونوں ملکوں میں اتفاق ہو گیا ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلٰی کیپٹن(ریٹائرڈ) امریندر سنگھ اور مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل نے فیس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے غریب یاتریوں کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔
ہرسمرت کور نے کہا کہ ہر سال پاکستان سے ہزاروں عقیدت مند اجمیر آتے ہیں جن سے کوئی فیس نہیں لی جاتی۔
سی ایل داس نے بھی فیس کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم پاکستان پر زور دیتے رہیں گے کہ وہ فیس لینے کا فیصلہ واپس لے۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان اس پر غور کرے گا۔

سکھ گورودوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے سابق سکریٹری سردار کرتار سنگھ کوچر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان فیس وصول کر ے گا یا نہیں۔ ہمارے لیے اس کی اہمیت ہے کہ ہم کرتارپور صاحب میں درشن کر سکیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کا دونوں ملکوں کے رشتوں پر کیسا اثر پڑے گا تو انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے میں یہ راہداری اہم کردار ادا کرے گی۔
سینئر صحافی اور پریس کلب آف انڈیا کی مینیجنگ کمیٹی کے رکن اے یو آصف نے کہا کہ بھارتی میڈیا میں پاکستان کی غلط تصویر پیش کی جاتی ہے۔ اور دوسرے یہ کہ آج مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلیوں کے انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا جا رہا ہے اس لیے یہاں کے میڈیا میں اس معاہدے کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG