رسائی کے لنکس

logo-print

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور خطے میں تشدد کی روک تھام کے لیے فوری اقدام کیے جائیں۔

جنوبی ایشیا کی دو ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان حالیہ تناؤ پر امریکہ کے بعد اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور خطے میں تشدد کی روک تھام کے لیے فوری اقدام کیے جائیں۔

یہ بات انھوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی سے گفتگو میں کہی جنہوں نے ملاقات کر کے سیکرٹری جنرل کو متنازع علاقے کشمیر میں عارضی حد بندی "لائن آف کنٹرول" پر پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں اپنے ملک کے موقف سے آگاہ کیا۔

گزشتہ ماہ بھارتی کشمیر میں ایک فوجی ہیڈکوارٹر پر ہونے والے مشتبہ دہشت گرد حملے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے جب کہ دو روز قبل ہی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے دو پاکستانی فوجی مارے گئے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے بھارتی فورسز کی "بلا اشتعال" فائرنگ کا بھرپور جواب دیا اور اطلاعات کے مطابق دوسری جانب بھی جانی نقصان ہوا تاہم اس بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔

لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے کے علاوہ دونوں ملکوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات کا تبادلہ میں دیکھنے میں آیا جس سے ماحول شدید کشیدہ ہو گیا ہے۔

بان کی مون نے صورتحال پر تشویش کے ساتھ ساتھ اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ بھارت کے عدم تعاون کی وجہ سے اقوام متحدہ کا فوجی مبصر گروپ لائن آف کنٹرول میں اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہا ہے۔

ادھر چین، روس اور ایران نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے اس تناؤ کو خطے کے امن کے لیے مضر قرار دیا ہے۔

قبل ازیں امریکہ لائن آف کنٹرول پر پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت سے تحمل کا مظاہر کرنے اور دوطرفہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت کی راہ اختیار کرنے کا کہہ چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG