رسائی کے لنکس

logo-print

پاک بھارت غیر رسمی سفارت کاری کا تازہ دور


فائل فوٹو

دونوں ملک بھی اس مؤقف کو دہراتے تو ہیں کہ وہ بات چیت کے ذریعے باہمی مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن مذاکرات میں کن امور پر پہلے بات ہونی ہے اس پر بھی دونوں میں اختلاف پایا جاتا ہے

جنوبی ایشیا کی دو ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان سرکاری سطح پر تو مذاکرات اور روابط معطل ہیں، لیکن ذرائع ابلاغ کے مطابق، ایک بار پھر غیر رسمی سفارتکاری کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ایک بھارتی غیر سرکاری وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق، بھارتی وفد نے سابق سیکرٹری خارجہ وویک کاٹجو کی سربراہی میں 28 سے 30 اپریل تک اسلام آباد میں سابق پاکستانی سیکرٹری خارجہ انعام الحق کی قیادت میں ایک وفد سے مشاورت کی۔

اس بارے میں مزید کوئی تفصیل تو سامنے نہیں آئی اور نہ ہی سرکاری طور پر کسی ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ لیکن، اسے دونوں ملکوں کے تعلقات میں پائے جانے والے تناؤ کو کم کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکہ سمیت مختلف ممالک اور اقوام متحدہ پاکستان اور بھارت پر زور دیتے آ رہے ہیں کہ وہ باہمی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت شروع کریں اور اپنے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہ کشیدگی خطے کے امن کے لیے بھی مضر ثابت ہو سکتی ہے۔

دونوں ملک بھی اس مؤقف کو دہراتے تو ہیں کہ وہ بات چیت کے ذریعے باہمی مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن مذاکرات میں کن امور پر پہلے بات ہونی ہے اس پر بھی دونوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار اور ٹریک ٹو یا غیر رسمی سفارتکاری کے عمل سے وابستہ رہنے والے طلعت مسعود کہتے ہیں کہ جب تک دونوں ممالک خاص طور پر بھارت اپنے مؤقف میں لچک کا مظاہرہ نہیں کرتا اس وقت تک ایسی غیر سرکاری مشاورتوں کا کوئی ٹھوس نتیجہ نکلنا مشکل ہے۔

منگل کو ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک بھارت کی سوچ میں تبدیلی نہیں آئے گی کہ وہ واقعی میں یہ چاہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو پھر سے بحال کرنے کی ضرورت ہے، اس وقت تک میں نہیں سمجھتا کہ سرکاری سطح پر بھی اور ٹریک ٹو میں کوئی جان پڑے گی۔"

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیمرانا مذاکرات کے نام سے مشہور ٹریک ٹو سفارتکاری کے عمل کا یہ ایک نیا آغاز ہے۔ لیکن، اس حالیہ مشاورت میں یہ اتفاق کیا گیا کہ بھارت، پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے کا انتظار کرے گا اور اس کے بعد ہی اس عمل کو آگے بڑھانے پر غور کیا جائے گا۔

دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں سفارتی سطح پر بھی اس وقت تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا جب پاکستان نے نئی دہلی میں اپنے سفارتی عملے کو بھارتی اہلکاروں کی طرح سے ہراساں کیے جانے کے الزامات عائد کیے اور جواباً بھارت نے بھی اپنے سفارتکاروں کے ساتھ اسلام آباد میں پاکستانی اہلکاروں کی طرف سے ایسا ہی رویہ روا رکھے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG