رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کی مستقل نشست کی امریکی حمایت ناقابل فہم


بھارت کی مستقل نشست کی امریکی حمایت ناقابل فہم

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں بدھ کو وفاقی کابینہ کا ایک اجلاس ہوا جس میں منظور کی گئی ایک قرارداد میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کے لیے مستقل نشست کی حمایت کے امریکی فیصلے پر شدید تحفظات اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

قرارداد کے مطابق امریکہ کے اس فیصلے کے کثیر فریقی تعاون کے اس نظام کی سمت اور امکانات پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد ہے۔مزید برآں ایشیا اور خاص طورپر جنوبی ایشیا میں امن وسلامتی اور استحکام پر بھی اس کے اثرات پڑیں گے۔

پاکستانی کابینہ نے سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے امریکی فیصلے کو اس لیے بھی ناقابل فہم قراردیا ہے کہ بھارت کا رویہ مبینہ طور پر اقوام متحدہ کے میثاق کے اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کے احترام سے مطابقت نہیں رکھتا جس کی واضح مثال جموں و کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق اقوام متحدہ کا مستقبل اور آنے والی نسلوں کی بنیادسیاسی اور عارضی مصلحتوں کی بجائے اخلاقی بنیادوں پر رکھی جانی چاہیئے اوریہ کہ ایک روشن خیال بین الاقوامی قانون وضع کرنے کے لیے اسی رہنما اصول کو مدنظر رکھا جائے۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد وزارت خارجہ نے قرارداد کا جو متن جاری کیا ہے اس کے مطابق پاکستان دنیا کے اکثر ملکوں کی طرح اصولوں کی بنیادپر سلامتی کونسل میں کی جانے والی اصلاحات کے عمل کی حمایت کرتا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ دو روز قبل اپنے دورہ بھارت کے دوران صدر براک اوباما نے بھارتی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے کی نئی دہلی کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG