رسائی کے لنکس

سوشل میڈیا پر انتہا پسندی پر مبنی مواد کی نگرانی کا حکم


فائل فوٹو

احسن اقبال نے وفاقی تفتیشی ادارے "ایف آئی اے" کے سائبر ونگ کو بھی ہدایت کی کہ وہ سوشل میڈیا پر "جھوٹی خبروں" پر قابو پانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے "نیکٹا" کو ہدایت کی ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف قومی بیانیہ ترتیب دینے کے لیے وہ فوری طور پر ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے پر کام کرے۔

پیر کو اسلام آباد میں نیٹکا کے ایک اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر انتہا پسندانہ سرگرمیوں کی مناسب نگرانی کی جانی چاہیے کیونکہ ان کے بقول ایسے عناصر منافرت پر مبنی پیغام پھیلانے کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس کو استعمال کر رہے ہیں۔

احسن اقبال نے وفاقی تفتیشی ادارے "ایف آئی اے" کے سائبر ونگ کو بھی ہدایت کی کہ وہ سوشل میڈیا پر "جھوٹی خبروں" پر قابو پانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے۔

ملک کی سیاسی و عسکری قیادت بارہا یہ کہہ چکی ہے کہ عسکریت اور انتہا پسند عناصر انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر رہے ہیں اور ان کا نشانہ خاص طور پر نوجوان ہیں۔

ملک میں حالیہ برسوں خصوصاً رواں سال ایسے مختلف اقدام دیکھنے میں آ چکے ہیں جن میں خاص طور پر سوشل میڈیا پر انٹرنیٹ صارفین کی نگرانی کو سخت کیا گیا جب کہ انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی طرح جرم کے تدارک کے لیے سائبر کرائم کا قانون بھی بنایا گیا۔

لیکن انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا استدلال رہا ہے کہ جہاں نگرانی کا موثر نظام وضع کیا جانا ضروری ہے وہیں اس بات کو یقینی بنانا بھی اہم ہے کہ ان قوانین اور نگرانی کی آڑ میں اظہار رائے کی آزادی کا بنیادی حق پامال نہ ہو۔

ایسے تحفظات کو اس وقت تقویت ملی جب رواں سال کے اوائل میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں سے پانچ مختلف بلاگرز پراسرار طور پر لاپتا ہوگئے اور چند دنوں بعد ایسے ہی پراسرار انداز میں اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔

ان افراد کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ یہ ریاستی اداروں پر تنقیدی خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے۔

تاہم حکومت کا موقف ہے کہ وہ شہریوں کے آزادی اظہار کے حق کو مدنظر رکھے ہوئے ہے اور ایسے قوانین کے موثر نفاذ کے ساتھ ساتھ ان کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG